
نئی دہلی، 4 جولائی (ہ س):۔
دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما نے ہفتہ کو عام آدمی پارٹی دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج کے خلاف دہلی کی راو¿ز ایونیو کورٹ میں دائر مجرمانہ ہتک عزت کے معاملے میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نیہا متل نے اگلی سماعت 15 جولائی کو مقرر کی۔
پرویش ورما نے اپنے بیان میں کہا کہ سوربھ بھاردواج نے ان کی اور ان کے خاندان کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے جھوٹے الزامات لگائے۔ بھاردواج نے جھوٹا الزام لگایا تھا کہ ورما نے وزیر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مبینہ ساتھی کو تقریباً 500 کروڑ روپے کے ایک پرائیویٹ اسکول ٹرسٹ کا ٹرسٹی مقرر کیا۔ اس سے قبل ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ پارس دلال کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ 8 جون کو مجسٹریٹ پارس دلال نے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔
پرویش ورما نے اپنی مجرمانہ ہتک عزت کی درخواست میں کہا کہ سوربھ بھاردواج نے 15 اور 16 مئی کو ان کو بدنام کرنے کے ارادے سے یہ پوسٹس کیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوربھ بھاردواج نے جھوٹا الزام لگایا ہے کہ ورما نے وزیر کے طور پر اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مبینہ ساتھی کو تقریباً 500 کروڑ روپے کے ایک پرائیویٹ اسکول ٹرسٹ کا ٹرسٹی مقرر کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوربھ بھاردواج نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ورما نے پوکسو کیس میں ملزم اسکول ملازمین کے حق میں کام کیا۔ پرویش ورما نے کہا کہ سوربھ بھاردواج کی ان پوسٹس کا مقصد جان بوجھ کر معاشرے کی نظروں میں ان کی شبیہ کو خراب کرنا تھا۔اسی معاملے میں پرویش ورما نے سوربھ بھردواج کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں دیوانی ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ ہائی کورٹ میں دائر ہتک عزت کی درخواست میں پرویش ورما نے سوربھ بھاردواج سے پانچ کروڑ روپے ہرجانے کی مانگ کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ