

مغربی سنگھ بھوم، 31 جولائی (ہ س)۔ چائباسا-ٹاٹا روڈ بائی پاس پر دشوم گرو پدم بھوشن شیبو سورین کا مجسمہ نصب کرنے کی تجویز نے ضلع میں سیاسی اور سماجی بحث چھیڑ دی ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے مجسمے کی مخالفت کرنے والوں کے موقف کو جھارکھنڈ تحریک کی وراثت کے خلاف قرار دیا ہے، جب کہ سماجی کارکنوں نے کولہان کے بہادر شہیدوں اور تاریخی شخصیات کو یکساں ترجیح دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
جھارکھنڈ تحریک سنگھ بھوم کے مرکزی ترجمان اور جے ایم ایم کے ضلع ترجمان بدھ رام لاگوری نے کہا کہ اگر مجسمے کی مخالفت کرنے والے کولہان کے بہادر شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں یہ بتانا چاہیے کہ مجسموں کی تنصیب کے لیے اب تک ضلع انتظامیہ کو کتنی درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں اور اس سمت میں کیا ٹھوس پہل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلے میں درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں تو ان کی کاپیاں اور انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائی کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔
لاگوری نے کہا کہ دشوم گرو شیبو سورین جھارکھنڈ تحریک کے سرکردہ رہنماو¿ں میں سے ایک تھے اور ریاست کی شناخت، پانی، جنگل، زمین اور عزت نفس کی لڑائی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ایسے لیڈر کے مجسمے کی مخالفت کرنا جھارکھنڈ تحریک کی تاریخ اور وراثت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ غیر ضروری طور پر سیاسی مقاصد کے لیے اس معاملے پر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، سماجی کارکن سادھو بانرا نے کہا کہ کولہان کی تاریخ بہادری، قربانی اور عزت نفس کی شاندار روایت سے عبارت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کول بغاوت اور سیرینگسیا کی تاریخی لڑائیوں میں ہو برادری کے بہادر جنگجوؤں نے برطانوی راج کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان بہادر سپوتوں اور تاریخی شخصیات کی وراثت کو اگلی نسل تک پہنچانا اور عوامی سطح پر ان کا احترام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
سادھو بانرانے کہا کہ کولہان کی ایک الگ سیاسی اور تاریخی شناخت ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ سابق ایم پی باگون سمبروئی اور دیگر عظیم لیڈروں، مجاہدین آزادی اور علاقے کے شہداءکے مجسمے مقامی تاریخ اور ثقافتی ورثے کے احترام کے لیے نمایاں عوامی مقامات پر نصب کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسی بھی عظیم انسان کا مجسمہ نصب کرنے کا اقدام خوش آئند ہے لیکن اس طرح کا فیصلہ وسیع سماجی مکالمے اور اتفاق رائے سے کیا جانا چاہیے تاکہ غیر ضروری تنازعہ پیدا نہ ہو۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ علاقے کے بہادر شہدا اور تاریخی شخصیات کا چائباسا، چکردھر پور اور جگن ناتھ پورسمیت کولہان کے مختلفشہروں میں ترجیحی بنیادوں پر احترام کیا جائے۔
شیبو سورین کے مجوزہ مجسمے کے بارے میں اب ضلع میں مختلف سیاسی اور سماجی آرا سامنے آ رہی ہیں۔ جہاں ایک گروپ اسے جھارکھنڈ تحریک کے سرکردہ لیڈر کی عزت کا معاملہ سمجھتا ہے، وہیں دوسرا گروپ مطالبہ کررہا ہے کہ علاقائی تاریخ، بہادر شہیدوں اور مقامی شخصیات کو یکساں اہمیت دی جائے۔ چنانچہ ضلع میں اس مسئلہ پر بحث زور پکڑتی جارہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد