
وزیر پونگولیٹی کی کمپنی رگھوا کنسٹرکشنز کے خلاف کارروائی کی ہدایتحیدرآباد، 31 جولائی (ہ س)۔
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آرسی) نے راجندر نگرکے مانسا ہلزعلاقے میں مبینہ غیرقانونی کانکنی کے معاملے پر تلنگانہ کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی سے منسلک کمپنی رگھوا کنسٹرکشنز کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ این ایچ آر سی نے سوال اٹھایا کہ مبینہ طور پرضروری اجازت ناموں کے بغیر کھدائی اور کانکنی کی سرگرمیاں کیسے انجام دی گئیں۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا عام شہریوں کے لیے ایک قانون اور بااثر افراد یا وزراء سے وابستہ کمپنیوں کے لیے دوسرا قانون ہے؟ کمیشن نے مبینہ غیر قانونی کانکنی کے معاملے میں مائنزاینڈ منرلز(ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ (ایم ایم ڈی آر ایکٹ) کے تحت کارروائی کرنے کی سفارش مرکزی حکومت سے کی ہے۔ اینایچآرسی نے اس معاملے میں محکمہ محصولات، محکمہ کانکنی و ارضیات، تلنگانہ آلودگی کنٹرول بورڈ اور حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ایم ڈی اے)کی مبینہ خاموشی پربھی سوال اٹھایا ہے۔ کمیشن نے مرکزی کوئلہ اورکانکنی کی وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاملے میں مناسب کارروائی کرے اور8 ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرے۔ یہ معاملہ راجندر نگر کے قریب مانسا ہلز میں مبینہ کانکنی اور کھدائی کی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ اس معاملے پر سیاسی سطح پر بھی الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ رگھوا کنسٹرکشنز کی جانب سے ماضی میں غیر قانونی کانکنی یا کرشر چلانے کے الزامات کی تردید کی جاچکی ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ کوتھواگوڈا میں اس نے نہ تو کوئی کرشر قائم کیا اور نہ ہی اسے چلایا، جبکہ کرشر سے متعلق مواد کسی دوسری کمپنی سے حاصل کیا جا رہا تھا۔ اینایچآرسی کی تازہ کارروائی کے بعد مانسا ہلز میں مبینہ کانکنی، ماحولیاتی اجازت ناموں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے کردار پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق