ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے: مفتی افراہیم حسین
علی گڑھ, 03 جولائی (ہ س) ۔ معروف مذہبی و سماجی شخصیت مفتی افراہیم حسین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور اختلافی آوازوں کے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی افسوسنا
مہرانگ بلوچ


علی گڑھ, 03 جولائی (ہ س) ۔

معروف مذہبی و سماجی شخصیت مفتی افراہیم حسین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور اختلافی آوازوں کے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو صرف اپنے لوگوں کے حقوق، جبری گمشدگیوں اور انصاف کی بات کرنے کی پاداش میں سزا دی جاتی ہے تو یہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں برسوں سے بلوچستان میں مبینہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ انہی معاملات کو اجاگر کرنے والی ایک نمایاں آواز رہی ہیں اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا طرزِ عمل تشویش کا باعث ہے۔

مفتی ابراہیم حسین نے کہا کہ پاکستانی حکام کو اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائیوں کے بجائے انصاف، شفاف قانونی عمل اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کو مقدم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے نہ صرف انصاف پر سوالات کھڑے کرتے ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام میں احساسِ محرومی کو بھی بڑھاتے ہیں۔

انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے، منصفانہ قانونی عمل کو یقینی بنانے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مؤثر توجہ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مفتی افراہیم حسین نے کہا کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اختلافی آوازوں کو دبانے میں نہیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے شفاف سماعت، کھلی عدالت میں ٹرائل اور اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے دفاع کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں ان کی بہن اور وکیل نادیہ بلوچ نے بھی فیصلے پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے فیصلے پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

مفتی افراہیم حسین نے کہا کہ ایسے حساس معاملات میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عملداری برقرار رکھتے ہوئے ہر ملزم کو آئین اور قانون کے مطابق منصفانہ اور شفاف ٹرائل فراہم کرے، کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا بھی ضروری ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande