
جے پور، 27 جولائی(ہ س)۔ جے پور سے دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں پیر کی صبح ہونے والی تاخیر پر راشٹریہ لوک تانترک پارٹی (آر ایل پی) کے رکنِ پارلیمنٹ ہنومان بینیوال نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور ایئر انڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہنومان بینیوال کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے قبل دہلی پہنچ کر اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ مختلف امور پر مشاورت کرنی تھی، تاہم پرواز مقررہ وقت پر روانہ نہ ہو سکی۔ایئر انڈیا کی جے پور۔دہلی پرواز اے آئی1834- صبح 8:50 بجے روانہ ہونا تھی، لیکن یہ تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ کی تاخیر کے بعد 10:10 بجے روانہ ہوئی۔پرواز میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہنومان بینیوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ملک بھر میں پروازوں کی مسلسل تاخیر اور بدانتظامی کے باعث لاکھوں مسافر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن وزیرِ اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی کے رام موہن نائیڈو اس سنگین مسئلے پر خاموش ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کا ایئرلائنز کے نظام اور وقت کی پابندی پر مؤثر کنٹرول باقی نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کے وقت کا احترام یقینی بنانا اور فضائی خدمات میں جوابدہی قائم کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
بینیوال نے ایئر انڈیا کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی پروازیں اکثر تاخیر کا شکار رہتی ہیں، مگر حکومت نہ تو کمپنی کا احتساب کرتی ہے اور نہ ہی نظام میں بہتری کے لیے کوئی مؤثر اقدامات کرتی ہے۔ادھر ہنومان بینیوال کی پوسٹ کے بعد ایئر انڈیا نے اپنے سرکاری بیان میں پرواز میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا۔ کمپنی کے مطابق پرواز اے آئیõ1834 کی روانگی میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ متعلقہ طیارہ اپنی گزشتہ پرواز سے دیر سے جے پور پہنچا تھا، جس کے باعث موجودہ پرواز بھی متاثر ہوئی۔ ایئر انڈیا نے مسافروں کو پیش آنے والی زحمت پر معذرت کا اظہار کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan