
ممبئی ، 26 جولائی (ہ س) شیو سینا کے رہنما اور مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین سچن اہیر کے ورلی سی فیس واقع رہائش گاہ سے مبینہ طور پر 2.6 کروڑ روپے مالیت کے سونے، ہیروں کے زیورات، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا کی چوری کے معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے اتوار کو مزید تین گھریلو ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی اس مقدمے میں گرفتار ملزمان کی تعداد بڑھ کر چار ہو گئی ہے۔
تحقیقات سے وابستہ ایک پولیس افسر کے مطابق اس معاملے میں جمعہ کو گھریلو ملازم پروین سولنکی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے پوچھ گچھ کے دوران کرائم برانچ کی یونٹ 3 نے ستیش کمار مستری، عمر 26 سال، امت یادو، عمر 26 سال، اور سورج گوتم، عمر 21 سال، کو بھی گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق پروین سولنکی کے قبضے سے تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کا 100 گرام وزنی سونے کا بسکٹ اور تقریباً 29 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کی سونے کی ایک اینٹ برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چوری شدہ دیگر قیمتی اشیا کی برآمدگی کے لیے گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سچن اہیر کے خاندان کو ایک نامعلوم شخص نے اطلاع دی کہ ستیش اور امت، جو تقریباً 18 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر باورچی اور گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتے تھے، انہوں نے اپنی آبائی ریاست جھارکھنڈ میں نیا مکان تعمیر کیا، زمین خریدی، ایک ٹیمپو اور ایک کار بھی خریدی، جبکہ اپنے رشتہ داروں کے بینک کھاتوں میں بڑی مقدار میں رقم منتقل کی۔ اطلاع دینے والے شخص نے اپنے دعووں کی تائید میں چند تصاویر بھی اہل خانہ کو بھیجی تھیں۔
اس اطلاع کے بعد سچن اہیر کے بیٹے کرشن اہیر نے پولیس کو بتایا کہ ورلی سی فیس میں واقع ان کی رہائش گاہ پر چار گھریلو ملازمین کئی برسوں سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ دشرتھ شرما تقریباً 17 برس سے خاندان کے باورچی تھے، جبکہ امرجیت شاہ تقریباً 13 برس سے کھانا بنانے کا کام کر رہے تھے۔ ستیش کمار مستری اور امت کمار رام بچن پرساد گزشتہ 6 سے 7 برس سے گھریلو کام کاج اور کھانا پیش کرنے کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، جبکہ سورج کمار گوتم تقریباً ڈھائی برس قبل ہاؤس کیپر کے طور پر ملازم رکھا گیا تھا۔
کرشن اہیر کے مطابق تمام ملزمان کو خاندان کی روزمرہ سرگرمیوں، گھر میں قیمتی سامان رکھنے کی جگہوں اور سی سی ٹی وی نظام کی مکمل معلومات تھیں، جس کی وجہ سے انہیں مبینہ چوری کی منصوبہ بندی میں آسانی ہوئی۔
انہوں نے پولیس کو بتایا کہ 13 اکتوبر 2025 کو رہائش گاہ میں مبینہ شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی تھی۔ اس وقت خاندان کو شبہ تھا کہ کچھ نقد رقم اور قیمتی سامان آگ میں جل کر تباہ ہو گیا ہوگا، لیکن بعد میں مزید جانچ کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج غائب پائی گئی اور دیگر شواہد بھی سامنے آئے، جس کے بعد چوری کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔ اسی بنیاد پر پولیس میں شکایت درج کرائی گئی، جس کے بعد کرائم برانچ نے تحقیقات شروع کیں۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ دیگر چوری شدہ قیمتی اشیا کی برآمدگی کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا اس واردات میں مزید افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے