وقف زرعی زمین رکھنے والے کسانوں کو بھی قرض معافی اور خصوصی مراعات دی جائیں، وقف زرعی زمین کسان سنگھ کا حکومت سے مطالبہ
وزیر اعلیٰ کو عرضداشت، وقف فنڈ میں رعایت، ریزرویشن، علیحدہ اتھارٹی اور ہر ریونیو ڈویژن میں وقف ٹریبونل کے قیام کی اپیل اورنگ آباد ، 26 جولائی (ہ س) مہاراشٹر میں وقف زرعی زمین رکھنے والے کسانوں کی نمائندہ تنظیم وقف زرعی زمین کسان سنگھ نے ری
وقف زرعی زمین رکھنے والے کسانوں کو بھی قرض معافی اور خصوصی مراعات دی جائیں، وقف زرعی زمین کسان سنگھ کا حکومت سے مطالبہ


وزیر اعلیٰ کو عرضداشت، وقف فنڈ میں رعایت، ریزرویشن، علیحدہ اتھارٹی اور ہر ریونیو ڈویژن میں وقف ٹریبونل کے قیام کی اپیل

اورنگ آباد ، 26 جولائی (ہ س) مہاراشٹر میں وقف زرعی زمین رکھنے والے کسانوں کی نمائندہ تنظیم وقف زرعی زمین کسان سنگھ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی قرض معافی کی موجودہ پالیسیوں کا دائرہ اقلیتی وقف کسانوں تک بھی وسیع کیا جائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ریاست میں ایسے تقریباً 5 سے 10 ہزار کسان ہیں جنہیں عام کسانوں کی طرح مالی امداد اور سرکاری مراعات ملنی چاہییں۔

تنظیم کے رابطہ کار یونس عالم صدیقی نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو پیش کردہ یادداشت میں کہا کہ حکومت کی پنیہ شلوک اہلیہ دیوی قرض معافی اسکیم قابل ستائش اقدام ہے، تاہم وقف زرعی زمینوں پر کاشت کرنے والے کسانوں کے مسائل بھی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کسانوں کے زرعی قرضوں کے ساتھ ساتھ وقف فنڈ کی بقایا رقم بھی معاف کی جائے تاکہ انہیں معاشی راحت مل سکے۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں تقریباً ایک لاکھ ایکڑ وقف زرعی زمین موجود ہے، جس کا بڑا حصہ بارانی اور کم زرخیز ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ جن کسانوں کی زمینیں سڑکوں، پازھر تالابوں یا دیگر عوامی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی ہیں، انہیں معاوضے کے ساتھ 10 فیصد نقد الاؤنس بھی فراہم کیا جائے۔

تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے اور معاشی طور پر کمزور وقف کسانوں کے لیے خصوصی مالی امدادی پیکیج متعارف کرایا جائے۔ یادداشت کے مطابق کسان وقف محصول اور وقف فنڈ کے ساتھ تعلیمی ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں زرعی تعلیم یا متعلقہ سہولتوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ملتا۔ اسی بنیاد پر تنظیم نے وقف زرعی زمین رکھنے والے کسانوں کا باضابطہ اندراج کرنے اور انہیں تعلیم، زراعت اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کی درخواست کی ہے۔

تنظیم نے مزید کہا کہ چونکہ بیشتر وقف زرعی اراضی غیر زرخیز ہے، اس لیے حکومت کو وقف فنڈ کی ادائیگی خود وقف بورڈ کو کرنی چاہیے تاکہ کسانوں کو بقایا جات ادا کرنے سے استثنا حاصل ہو سکے۔ اس کے علاوہ وقف زرعی زمینوں کی ترقی، آبی تحفظ اور زرعی منصوبوں کے لیے ایک علیحدہ وقف ترقی، زرعی زمین اور آبی تحفظ اتھارٹی قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی، جس کے اخراجات حکومت برداشت کرے۔

یونس عالم صدیقی نے نشاندہی کی کہ وقف بورڈ میں زرعی شعبے کی نگرانی کے لیے کوئی مخصوص افسر موجود نہیں، اس لیے حکومت متعلقہ افسران کی تقرری کے ساتھ زرعی اور آبپاشی منصوبوں کے لیے خصوصی فنڈ بھی مختص کرے تاکہ ان منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ یادداشت میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ ریاست کے ہر ریونیو ڈویژن میں وقف ٹریبونل قائم کیا جائے، وقف زرعی زمین رکھنے والے کسانوں کو زرعی ترقی سے متعلق تمام سرکاری اسکیموں میں شامل کیا جائے، مہاراشٹر بھر میں وقف املاک کا سروے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور وقف اراضی پر موجود تمام تجاوزات ختم کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

یونس عالم صدیقی نے کہا کہ جب حکومت دیگر کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبے نافذ کر رہی ہے تو وقف زرعی زمین رکھنے والے اقلیتی کسانوں کو بھی یکساں بنیادوں پر قرض معافی، مالی امداد اور تمام سرکاری سہولتوں سے مستفید ہونے کا حق ملنا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande