

یو پی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ، ایس پی صدر اکھلیش یادوسمیت دیگر رہنماو¿ں کا اظہار افسوس
نئی دہلی ،لکھنو¿،23جولائی (ہ س )۔
اتر پردیش میںسماجوادی پارٹی کے بزرگ اور سینئر رہنما اور اعظم گڑھ ضلع کے نظام آباد سیٹ سے رکن اسمبلی عالم بدیع کا طویل علالت کے بعد90سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ۔ بزرگ رکن اسمبلی عالم بدیع گزشتہ کچھ عرصے سے کافی بیمار چل رہے تھے ۔وہ لکھنو¿ کے میدانتا اسپتال میں داخل تھے، جہاں طویل علاج کے بعد آج ان کا انتقال ہو گیا۔ عالم بدیع کا انتقال اعظم گڑھ میں واقع ان کی رہائش گاہ پرگزشتہ شب انتقال ہوگیا، انہیں 4 دن پہلے ہی لکھنو¿ کے میدانتا سپتال سے ڈسچارج کرایا گیا تھا۔ان کے پسماندگان میں چھ بیٹے ہیں۔ایک بیٹی تھی جس کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ بزرگ رکن اسمبلی کے انتقال پریو پی اسمبلی اسپیکر اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سمیت دیگر رہنماو¿ں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
رکن اسمبلی عالم بدیع کے انتقال کی خبر کے بعد ان کی رہائش گاہ پر سیاسی سماجی شخصیات کی جانب سے تعزیت پیش کرنے والوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ رکن اسمبلی عالم بدیع نے 90 سال کی عمر میں آخری سانس لی، وہ 5 مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ان کے انتقال سے سیاسی حلقوں اور ان کے اہل خانہ کے درمیان غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کے جنازے کی نماز شام کوجامعہ الرشاد میں ہوگی۔
بزر رکن اسمبلی عالم بدیع کے انتقال پر اتر پردیش اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا نے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔جمعرات کو جاری اپنے تعزیتی پیغام میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر مہانا نے کہا کہ عالم بدیع کا انتقال ریاست کی سیاست اور عوامی زندگی کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اپنی طویل عوامی زندگی کے دوران، انہوں نے عوامی خدمت، جمہوری اقدار، اور سماجی تحفظات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سادہ شخصیت اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے لگن کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دلی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر نے ان کے سوگوار خاندان، حامیوں اور ان گنت خیر خواہوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کیلئے صبر کی دعا کی۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی رکن اسمبلی عالم بدیع کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور اعظم گڑھ کی نظام آباد اسمبلی سیٹ سے مقبول رکن اسمبلی جناب عالم بدیع کا انتقال انتہائی افسوسناک ہے۔ سوگوار خاندان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا ہو، دلی تعزیت۔“
واضح رہے کہعالم بدیع کا نظام آباد میں طویل عرصے سے دبدبہ رہا۔ وہ یہاں سے 5ویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ انہیں یہاں سے پہلی بار 1996 میں جیت ملی تھی۔ انہوں نے 1996 سے 2007 تک یہاں سے عوامی نمائندگی کی اور 2007 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پھر 2012 میں انہیں دوبارہ جیت ملی اور تب سے یہ مسلسل اس سیٹ پر انتخاب جیتتے رہے اور 5ویں مرتبہ 2022 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔رواں سال مارچ میں جب وہ 90برس کے ہوئے تو اسمبلی میں ایک قرار داد منظور کر کے ان کو مبارکباد پیش کی گئی تھی ۔ یو پی اسمبلی کی تاریخ میں ایسا یہ پہلا واقعہ تھا ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ