سونم وانگ چک کو پارلیمنٹ مارچ میں شرکت سے روکنے کےلئے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے:سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 19 جولائی(ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے سونم وانگچک کی اہلیہ کی جانب سے مرکزی حکومت کے صفدرجنگ اسپتال اور پولیس پر لگائے گئے سنگین الزامات پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی اہلیہ کا کہ
سونم وانگ چک کو پارلیمنٹ مارچ میں شرکت سے روکنے کےلئے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے:سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 19 جولائی(ہ س)۔

عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے سونم وانگچک کی اہلیہ کی جانب سے مرکزی حکومت کے صفدرجنگ اسپتال اور پولیس پر لگائے گئے سنگین الزامات پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو غیر قانونی طور پر اسپتال میں حراست میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ پیر کو پارلیمنٹ تک ہونے والے مارچ میں شریک نہ ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صفدرجنگ اسپتال پر سونم وانگچک کے بلڈ ٹیسٹ سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پیر کی صبح 9 بجے جنتر منتر پہنچنا ہے اور وہاں سے پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کرنا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سونم وانگچک جی کے بارے میں ان کی اہلیہ کی جانب سے ایک نہایت اہم اطلاع سامنے آئی ہے۔ ان کی اہلیہ نے بتایا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے صفدرجنگ اسپتال پر بالکل بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتال کی جانب سے ان کے بلڈ ٹیسٹ کے بارے میں غلط معلومات دی جا رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے سونم وانگچک کو اسپتال میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔ویڈیو میں سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ سونم وانگچک کی جان اور صحت کے حوالے سے ان کی اہلیہ نے ایک نہایت سنگین اور حیران کن اطلاع دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مرکزی حکومت کے صفدرجنگ اسپتال پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ صفدرجنگ اسپتال نے پہلے ان کی اہلیہ کو بتایا تھا کہ سونم وانگچک کے جسم میں پوٹاشیم کی سطح بہت کم ہو گئی ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ چونکہ انہیں اسپتال کی بات پر مکمل اعتماد نہیں تھا، اس لیے انہوں نے خود سونم وانگچک کے خون کے نمونے ایک Èزاد لیبارٹری میں جانچ کے لیے بھیجے۔ جب Èج صبح لیب کی رپورٹ آئی تو نتائج حیران کن تھے، کیونکہ سونم وانگچک کے پوٹاشیم کی سطح مکمل طور پر معمول کے مطابق تھی۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سونم وانگچک پر تقریباً 30 پولیس اہلکاروں کا پہرہ لگا ہوا ہے۔ ان کی اہلیہ نے مرکزی حکومت اور اس کے اسپتال پر یہ سنگین الزام عائد کیا ہے کہ سونم وانگچک کی صحت کا جھوٹا بہانہ بنا کر انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، تاکہ وہ پیر، 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک ہونے والے پرامن مارچ میں شرکت نہ کر سکیں۔سوربھ بھاردواج نے ملک کے عوام سے کہا کہ Èج مرکزی حکومت پر جو اتنے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ پیر کی صبح 9 بجے ہم سب کو پرامن طریقے سے جنتر منتر پہنچنا ہے اور وہاں سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنا ہے۔ ہم اس حکومت کو بتائیں گے کہ Èج ملک کے نوجوان اور طلبہ اس حکومت سے سوال کرنا چاہتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande