
نئی دہلی، 20 جولائی(ہ س)۔ آل انڈیا ملّی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس بروز اتوار انسٹی ٹیوٹ آڈیٹوریم، جوگابائی مین روڈ، جامعہ نگر میں ہوا، جس کی صدارت ملّی کونسل کے کارگزار صدر، مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کی۔ اجلاس کی پوری کاروائی کی نظامت کونسل کے معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان بنگلور نے انجام دی۔ اس موقع پر مجلس عاملہ کے ارکان کے علاوہ کئی ریاستوں کے مدعوئین خصوصی بھی شریک ہوئے۔
ملک کی موجودہ صورت حال کے پس منظر میں مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین نے اپنے اپنے انداز میں اجلاس کے مختلف ایجنڈوں پر اپنی بہترین ومثبت آراءکا اظہار کیا۔ اس موقع پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے جو ملّی کونسل کے نائب صدر بھی ہیں، اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آج ہم ایک ایسے موقع پر جمع ہوئے ہیں جب کہ ملک عجیب کشمکش سے دوچار ہے۔ آج ہمارے دینی واسلامی شعار کو تو نشانہ بنایا جارہا ہے، ساتھ ساتھ ملک کے جمہوری اقدار اور دستور وآئین کے خلاف بہت ہی شاطرانہ انداز میں حملے ہورہے ہیں، تاہم ہمیں دو محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ ایک طرف اتحاد امت تو دوسری تکریم انسانی وقومی اتحاد۔ آج حالات اس بات کے بھی متقاضی ہیں کہ ہم اپنے دینی شعائر کے تحفظ کی جدوجہد کریں تو دوسری جانب دیگر مذاہب وادیان کے لوگوں کے ساتھ موالات وبھائی چارے کے لیے مختلف انداز میں کام کریں۔ پریشان ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں، بس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنے لیے اسوہ بنائیں۔ ہم کو منتشر کرنے کی چالیں بھی چلی جارہی ہیں، لیکن ہم تدبر کے ساتھ ان کا تدارک کریں۔
مولانا انیس الرحمن قاسمی، کارگزار صدر آل انڈیا ملّی کونسل نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ آل انڈیا ملّی کونسل کا مزاج یہ رہا ہے کہ وہ انصاف، آئین، جمہوری اقدار اور انسانی وقار کی علمبردار رہی ہے۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دیا جائے اور مختلف طبقات کے درمیان مکالمے، تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی فضا پیدا کی جائے۔ ہمارے سامنے ایک گہرا فکری، تعلیمی اور تہذیبی چیلنج ہے۔ ملت کا استحکام صرف احتجاج یا ردّعمل سے حاصل نہیں ہوتا۔ آل انڈیا ملّی کونسل کو بھی انہی بنیادوں پر اپنے سفر کو آگے بڑھانا ہے، تاکہ ہماری کوششیں وقتی اثرات تک محدود نہ رہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کریں۔
واضح رہے کہ اکثر ارکان عاملہ نے ملک وملت کے موجودہ حالات پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور متفقہ طور پر طے پایا کہ ملی کونسل ان مشوروں وتجاویز کو عملی جامہ پہنانے میں اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔ ملک کے اندر ایسے عناصر اور جماعتیں جو ملک کے دستور وامن کو نقصان پہنچارہی ہیں، انھیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کے طور پر کئی لائحہ عمل بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں مرکزی مجلس عاملہ کی تین خالی نشستوں پر مجلس عمومی کے ارکان کے درمیان سے تین ناموں پر متفقہ فیصلہ ہوا۔ حیدرآباد سے ایڈوکیٹ افسر جہاں، ممئی سے مولانا شاہد ناصری الحنفی اور گجرات سے مولانا الف نقشبندی کا انتخاب کیا گیا۔مجلس عاملہ نے اکتوبر / نومبر کے دوران 24/ویں مجلس عمومی کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا۔
مجلس عاملہ نے کئی تجاویز کو منظور کرتے ہوئے مختلف ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں، راجستھان میں مساجد اور مدارس کے خلاف انہدامی کاروائی، ملک میں تعلیمی اداروں کو درپیش چیلنجز نیز پیپر لیک کے ناقابل فراموش مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں ملک کے اندر مسلمانوں کی صورت حال اور چیلنجز بالخصوص ایس آئی آر کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے گزارش کی گئی کہ جلد از جلد ایس آئی آر اندراج کو یقینی بنائیں، نیز اتحاد ملت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais