
نئی دہلی، 19 جولائی(ہ س)۔
عام آمی پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ راجیہ سبھا سنجے سنگھ نے پیپر لیک، پرامن مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی اور سونم وانگچک کے مطالبات پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے مطالبے کے ساتھ راجیہ سبھا کے سیکریٹری جنرل کو نوٹس دیا ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ جنتر منتر سے زبردستی اٹھا کر اسپتال میں داخل کرائے جانے کے باوجود سونم وانگچک نے اپنا غیر معینہ مدت کا بھوک ہڑتال جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت اب ایک سنگین قومی تشویش کا موضوع بن چکی ہے۔ ایسے میں میری مودبانہ گزارش ہے کہ قاعدہ 267 کے تحت ایوان کے تمام معمول کے کام ملتوی کرکے قومی مفاد سے وابستہ اس نہایت اہم اور فوری نوعیت کے مسئلے پر ایوان میں بحث کرائی جائے۔ راجیہ سبھا کے سیکریٹری جنرل کو دیے گئے نوٹس میں سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ وہ ایک نہایت حساس اور عوامی اہمیت کے حامل معاملے کی طرف ایوان کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں، جو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جانب سے 3 مئی 2026 کو منعقدہ نیٹ-یو جی امتحان میں بڑے پیمانے پر سوالیہ پرچہ لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد امتحان منسوخ کیے جانے اور اس کے نتیجے میں ملک گیر سطح پر دوبارہ امتحان کرانے کی مجبوری سے متعلق ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں یہ اس امتحان میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کا چوتھا درج شدہ واقعہ ہے، جو ملک کے اس باوقار طبی داخلہ امتحان میں مسلسل موجود خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور اس کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی موثریت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ بار بار ہونے والے ان واقعات نے ہندوستان کے امتحانی نظام کی غیر جانبداری، اعتبار اور شفافیت پر عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحان منسوخ ہونے کے باعث طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو غیر معمولی ذہنی اور عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں اصل امتحان میں 22,05,035 امیدوار شریک ہوئے تھے، وہیں دوبارہ امتحان میں صرف 19,99,895 امیدوار ہی حاضر ہوئے، یعنی 2.05 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے دوبارہ امتحان نہیں دیا۔ یہ نیٹ-یو جی کی تاریخ میں غیر حاضری کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے، جو امتحانی عمل پر عوام کے اعتماد میں شدید کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اصل امتحان کے منسوخ ہونے اور دوبارہ امتحان کے درمیان 46 دن کی مدت میں کم از کم 22 نیٹ امیدواروں نے مایوسی کے عالم میں خودکشی کر لی۔ یہ افسوسناک صورتحال ملک کے اہم ترین مسابقتی امتحانات میں بار بار ہونے والی ناکامیوں کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ نیٹ تنازعہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع قومی بحران کا حصہ ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں ملک بھر میں 150 سے زائد سوالیہ پرچے لیک ہو چکے ہیں، جن سے تقریباً 7 کروڑ طلبہ متاثر ہوئے، یعنی اوسطاً ہر ماہ ایک پیپر لیک ہوا۔ قومی سطح کے داخلہ اور بھرتی کے امتحانات میں بار بار ہونے والی ان سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کسی مضبوط جوابدہی کا نظام نظر نہیں Èتا۔ سوالیہ پرچہ لیک روکنے میں نظام کی مسلسل ناکامی نے امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے اور لاکھوں باصلاحیت طلبہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ Èیا ان کی محنت اور صلاحیت کا کوئی تحفظ بھی ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ دھرنا گاہ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور کارروائی کے فوراً بعد علاقے کی بجلی اور موبائل نیٹ ورک بھی متاثر کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد بھی سونم وانگچک نے اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے اور انہوں نے Èئی وی فلوئڈز اور ادویات لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ان کی مسلسل گرتی ہوئی صحت اب ایک سنگین قومی تشویش کا موضوع بن چکی ہے اور یہ امتحانی بحران کے حوالے سے معاشرے کی گہری بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ نیٹ کے سوالیہ پرچوں کا بار بار لیک ہونا، ملک کے اعلیٰ ترین طبی داخلہ امتحان کا منسوخ ہونا، گزشتہ نو برسوں میں چار مرتبہ امتحان کا متاثر ہونا، دوبارہ امتحان میں امیدواروں کی غیر معمولی غیر حاضری، نیٹ امیدواروں کی افسوسناک خودکشیاں، ان ناکامیوں پر مکمل جوابدہی کا فقدان، پرامن مظاہرین پر پولیس کارروائی اور سونم وانگچک کی انتہائی بگڑتی ہوئی صحت یہ تمام عوامل مل کر ایک نہایت سنگین قومی اہمیت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ یہ معاملہ براہِ راست ملک کے نوجوانوں کے مستقبل، عوامی امتحانی نظام کی ساکھ، غیر جانبداری، شفافیت، جوابدہی اور مساوی مواقع کی فراہمی سے متعلق ریاست کی Èئینی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais