مدھیہ پردیش کابینہ نے یکساں سول کوڈ بل-2026 کی تجویز کو منظوری دی
مدھیہ پردیش کابینہ نے یکساں سول کوڈ بل-2026 کی تجویز کو منظوری دیوزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں جگدیش پور میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی بھوپال، 19 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں اتوار کے روز ضلع بھوپال
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں جگدیش پور میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی


وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں جگدیش پور میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی


وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں جگدیش پور میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی


چیف سکریٹری انتظامی افسران کے ساتھ کابینہ کی میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے ای-بس سے روانہ ہوئے


چیف سکریٹری انتظامی افسران کے ساتھ کابینہ کی میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے ای-بس سے روانہ ہوئے


مدھیہ پردیش کابینہ نے یکساں سول کوڈ بل-2026 کی تجویز کو منظوری دیوزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں جگدیش پور میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی

بھوپال، 19 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں اتوار کے روز ضلع بھوپال کے شاہی دور کے قصبے جگدیش پور میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل-2026 کے مسودے کو اتفاقِ رائے سے منظوری دے دی گئی۔ اب پیر، 20 جولائی سے شروع ہو رہے مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں اسے ایوان کی میز پر پیش کیا جائے گا۔

میٹنگ کے بعد وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اس فیصلے پر کابینہ کے تمام ارکان اور اہل وطن کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بل کو اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ برابری ہندوستانی ثقافت اور اقدار کا اٹوٹ حصہ رہی ہے۔ اسی جذبے کے مطابق حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد اس پر بحث ہوگی اور ایوان کی منظوری ملنے کے بعد آگے کا عمل پورا کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو ایوان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یو سی سی کے ذریعے ریاست میں سب کو برابری کا درجہ مل جائے گا، جن میں ’رام‘ اور ’رحیم‘ بھی شامل ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یو سی سی نافذ کرنے سے پہلے ہم عوام کے درمیان گئے۔ دو ماہ تک عوام سے فیڈ بیک لیا۔ چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی، سیاسی، سماجی، مذہبی ہر طرح کے نمائندے سے رائے لی گئی۔ اس پر بحث کے لیے سب کو بلایا، لیکن کانگریس کے لوگ نہیں آئے، کیونکہ انہیں ہر موقع پر ہندو-مسلم کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یو سی سی پر 9 لاکھ 58 ہزار مشورے آئے۔ ان میں 93.54 فیصد لوگوں نے ریاست میں اس قانون کی حمایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ 80 فیصد مسلم بہنوں اور 40 فیصد مسلم بھائیوں نے بھی یکساں قانون کا مطالبہ کیا ہے۔ یو سی سی کی تجویز میں التزام کیا گیا ہے کہ ریاست میں صرف ایک ہی شادی مانی جائے گی۔ دوسری شادی نہیں چلے گی۔ طلاق کا عمل بھی قانونی ہوگا۔ وراثت کا انتخاب قانون سے ہوگا۔ خاتون اور مرد کو مساوی حقوق ملیں گے۔ لیو-اِن ریلیشن (ساتھ رہنے) میں ایک ماہ کے اندر رجسٹریشن لازمی ہوگا۔ اس میں التزام ہے کہ 21 سال کا لڑکا اور 18 سال سے زیادہ عمر کی لڑکی ہی لیو-اِن میں رہ سکے گی۔ قبائلی برادری کو اس قانون میں مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ شادی کا رجسٹریشن دیہی سطح تک لازمی ہوگا۔ شادی شدہ شخص لیو-اِن میں رہتا ہے تو 5 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ امتیازی رسم و رواج کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ ہندوستانی ثقافت میں سب کے لیے یکساں احترام ہے۔ ہماری سوچ، ہمدردی یکساں ہو اور ہم ایک مثال پیش کریں۔ ’سب کا ساتھ-سب کا وشواس اور سب کا وکاس‘ کی سوچ پر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ جب خدا اور قدرت فرق نہیں کرتے تو پھر کیسے ہم فرق کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس قانون کو لاگو کرنے میں حمایت دیں۔ انہوں نے کہا کہ دوریوں کو بھروسے میں بدلنا اس قانون کا بنیادی مقصد ہے۔

وزیر گووند سنگھ راجپوت نے کہا کہ مدھیہ پردیش وہ ریاست بنے گا، جہاں یکساں سول کوڈ لاگو ہوگا۔ یہ تاریخی فیصلہ گونڈ راجاوں کے قلعے میں ہو رہا ہے۔

اس سے پہلے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کابینہ کی میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے وزیرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ سے وزراء کے ساتھ ای-بس میں سوار ہو کر جگدیش پور پہنچے۔ وہیں، چیف سکریٹری انوراگ جین دیگر انتظامی افسران کے ساتھ ای-بس سے کشابھاو کنونشن سینٹر سے جگدیش پور پہنچے اور کابینہ کی میٹنگ میں شامل ہوئے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں جگدیش پور میں وندے ماترم کے ترانے کے ساتھ کابینہ کی میٹنگ شروع ہوئی۔

کابینہ کی میٹنگ کے بعد وزیر اعلیٰ نے بھوپال کی شاندار تاریخ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھوپال کی تاریخ پرمار راج ونش اور راجہ بھوج سے جڑی ہے۔ یہ علاقہ قدیم زمانے سے سناتن ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوپال کا گہرا تعلق گونڈ راج ونش سے بھی ہے۔ مدن شاہ اور سنگرام شاہ جیسے حکمرانوں نے علاقے کی ترقی میں تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں راجہ نظام شاہ کو زہر دے کر قتل کرنے اور اس کے بعد رانی کملا پتی کی جانب سے اپنے بیٹے اور رعایا کی حفاظت کے لیے کی گئی جدوجہد کی بھی خاص اہمیت ہے۔ انہوں نے افغان سردار دوست محمد خان کے دور اور بعد کے عہدِ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال کی تاریخ مختلف حکمرانوں اور ثقافتوں سے مالا مال رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande