سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے پر اہلیہ نے حکومت پر سوالات اٹھائے، صحت سے متعلق دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیا
نئی دہلی، 19 جولائی (ہ س): جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ماہرِ ماحولیات سونم وانگچک کو ہفتہ کے روز صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر ان کی اہلیہ ڈاکٹر گیتانجلی آنگمو نے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت
سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے پر اہلیہ نے حکومت پر سوالات اٹھائے، صحت سے متعلق دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیا


نئی دہلی، 19 جولائی (ہ س): جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ماہرِ ماحولیات سونم وانگچک کو ہفتہ کے روز صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر ان کی اہلیہ ڈاکٹر گیتانجلی آنگمو نے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کا حوالہ دے کر انہیں اسپتال لے جانے کا دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ ان کے مطابق وانگچک کے تمام طبی اشاریے معمول کے مطابق تھے اور اگر واقعی ان کی صحت پر تشویش ہوتی تو پوری کارروائی شفاف طریقے سے انجام دی جاتی۔

اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر گیتانجلی آنگمو نے کہا کہ حکومت کا یہ کہنا کہ سونم وانگچک کی طبیعت بگڑ رہی تھی، حقیقت کے برعکس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے کی شام تک ہونے والی طبی جانچ کی رپورٹ میں ان کے خون میں پوٹاشیم کی سطح 4.3 تھی اور دیگر تمام طبی اشاریے بھی معمول کے مطابق پائے گئے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی ان کی صحت کے بارے میں فکر مند تھی تو سادہ لباس میں پولیس اہلکار بھیجنے کے بجائے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم دھرنا گاہ بھیجی جا سکتی تھی اور اہلِ خانہ کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکتا تھا۔

ڈاکٹر آنگمو نے الزام لگایا کہ صحت سے متعلق تشویش کا جواز محض ایک بہانہ تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انتظامیہ کو اندیشہ تھا کہ اگر سونم وانگچک مجوزہ پارلیمنٹ مارچ کا آغاز کرتے ہیں تو ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ اس تحریک میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے تحت انہیں دھرنا گاہ سے ہٹایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خاندان چاہتا ہے کہ وانگچک کا علاج ان کی پسند کے ڈاکٹروں کی نگرانی میں کرایا جائے، جہاں انہیں زیادہ اعتماد اور اطمینان محسوس ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ کی رات کی رپورٹ میں وانگچک کا بلڈ پریشر، جو عام طور پر 110/70 رہتا ہے، بڑھ کر 125/85 ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ اضافہ وہاں کے کشیدہ ماحول کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ ماہرِ ماحولیات سونم وانگچک گزشتہ 20 دنوں سے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ ہفتہ کی صبح دہلی پولیس نے انہیں علاج کے لیے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ اس واقعے کے بعد تحریک اور اس سے جڑے سیاسی حالات میں تیزی آ گئی ہے۔

اس دوران دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی سوشل میڈیا مہم اور مجوزہ احتجاج سے متعلق بعض معاملات میں بھی کارروائی کی ہے۔ دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سی جے پی کی قیادت میں جنتر منتر پر جاری دھرنے کا بنیادی مقصد امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بتایا گیا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ مسلسل سامنے آنے والی امتحانی بے ضابطگیوں سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا ہے اور حکومت جوابدہی طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اسی سلسلے میں سی جے پی نے 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک پُرامن مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے قانون و انتظام برقرار رکھتے ہوئے جمہوری انداز میں تحریک میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande