انتظامیہ پوری تیاری کے ساتھ کسانوں کی مدد کے لیے تیار رہے : وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو
زرعی فیسٹیول جھابوا میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آن لائن کسانوں سے گفتگو کی بھوپال، 19 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اتوار کے روز جھابوا میں بلرام زرعی فیسٹیول کے تحت آن لائن کسانوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکو
زرعی فیسٹیول جھابوا میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے آن لائن کسانوں سے گفتگو کی


زرعی فیسٹیول جھابوا میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آن لائن کسانوں سے گفتگو کی

بھوپال، 19 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اتوار کے روز جھابوا میں بلرام زرعی فیسٹیول کے تحت آن لائن کسانوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کی آمدنی بڑھانے، زراعت کو نفع بخش بنانے اور جدید و قدرتی کھیتی کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ ’’کرشک کلیان ورش‘‘ (کسان بہبود سال) کے تحت ریاست میں ’’بلرام زرعی فیسٹیول-2026‘‘ منایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اندور سے اس کی شروعات کی۔ آئندہ بلرام زرعی فیسٹیول 21 جولائی کو علی راج پور میں، 23 جولائی کو بڑوانی، 25 جولائی کو کھرگون میں، 27 جولائی کو برہان پور میں اور 30 جولائی کو کھنڈوا میں منعقد کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمۂ موسمیات کی جانب سے اس سال معمول سے کم بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں انہوں نے انتظامیہ کو پوری تیاری کے ساتھ کسانوں کی مدد کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسانوں کو 3 لاکھ روپے تک کا زرعی قرض صفر فیصد شرحِ سود پر فراہم کرایا جا رہا ہے۔ کسانوں کو صرف 5 روپے میں بجلی کے کنکشن دیے جا رہے ہیں اور ڈیری کی ترقی کے لیے 40 لاکھ روپے تک کے منصوبے میں 33 فیصد سبسڈی کا التزام کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، سائنسی مشورے، قدرتی کھیتی اور پانی کے تحفظ کے اصولوں کو اپنا کر زراعت کو زیادہ نفع بخش بنائیں۔ مرکز اور ریاستی حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور زرعی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون دینے کے لیے پوری طرح عہد بستہ ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ’’قدرتی کھیتی‘‘ کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی قدرتی کھیتی مشن کے تحت جھابوا ضلع میں 50 کرشی سکھیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ضلع میں اس وقت تقریباً 3,125 ایکڑ رقبے پر قدرتی کھیتی کی جا رہی ہے اور کسانوں کی قدرتی کھیتی کی تصدیق بھی کرائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایک ضلع-ایک پروڈکٹ‘‘ اسکیم کے ذریعے کڑک ناتھ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہچان دلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سال 2025 میں ضلع میں کڑک ناتھ پالن سے 1 ہزار سے زائد نئے مستفیدین کو جوڑا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زراعت کے ساتھ مویشی پروری کسانوں کی باقاعدہ آمدنی کا مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔ محکمۂ مویشی پروری کی فلاحی اسکیموں کے ذریعے ڈیری، بکری پالن، مرغی پالن سمیت دیگر سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے دودھ کی پیداوار بڑھنے کے ساتھ کسانوں کی معاشی حالت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے ماہی پروری کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں 760 سے زیادہ تالابوں کو ترقی دی گئی ہے، جن میں تقریباً 3 ہزار ہیکٹر رقبے پر ماہی پروری کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نقدی فصل کے طور پر کپاس کی پیداوار کو خصوصی فروغ دیا جا رہا ہے۔ خریف-2026 میں اب تک ضلع میں 23 ہزار 230 ہیکٹر رقبے پر کپاس کی بوائی ہو چکی ہے، جو گزشتہ سال کے 19 ہزار 888 ہیکٹر کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھار ضلع کے بدناور میں واقع پی ایم مترا پارک سے جھابوا کے کپاس پیدا کرنے والے کسانوں کو ’’کھیت سے کارخانے تک‘‘ کی سہولت ملے گی، جس سے کسانوں کی آمدنی، روزگار اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔

وزیر اعلیٰ نے پیٹلاود میں قائم ٹماٹر پروسیسنگ یونٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں 2,812 ہیکٹر رقبے پر ٹماٹر کی کھیتی کی جا رہی ہے اور تقریباً 1.68 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار ہو رہی ہے۔ یہاں ٹماٹر پیدا کرنے والے کسانوں کا کلسٹر تیار کیا گیا ہے اور ٹماٹر سوس و کیچپ کی پیداوار کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 12 سولر ڈرائر یونٹ قائم کر کے ٹماٹر کو خشک (ڈی ہائیڈریشن) بھی کیا جا رہا ہے۔ جھابوا کا ٹماٹر راجستھان، گجرات، مہاراشٹر، پنجاب، ہریانہ اور دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں بھیجا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نرمدا-جھابوا-پیٹلاود-تھاندلا مائیکرو لفٹ اریگیشن پروجیکٹ مکمل ہونے پر تقریباً 32 ہزار ہیکٹر رقبہ سیراب ہوگا اور قریب 50 ہزار کسانوں کو فائدہ ملے گا۔ اس سے پانی کے تحفظ، آبپاشی کی کارکردگی اور زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور کم پانی میں زیادہ پیداوار ممکن ہو سکے گی۔

بلرام زرعی فیسٹیول میں کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیجوں، نئے زرعی آلات، قدرتی و نامیاتی کھیتی، فصلوں کے تنوع، پانی کے تحفظ اور حکومت کی کسان دوست اسکیموں کی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کھیتی زیادہ نفع بخش، پائیدار اور خوشحال بن سکے۔

فیسٹیول میں زرعی شعبے میں نمایاں کام کرنے والے بہترین کسانوں کی عزت افزائی بھی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی مختلف اسکیموں کے مستفیدین میں فوائد کی تقسیم، زرعی آلات اور جدید تکنیکوں کا مظاہرہ اور کسانوں کو تکنیکی لٹریچر بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ فیسٹیول میں زراعت، باغبانی، مویشی پروری، ماہی پروری، تعاون، زرعی انجینئرنگ اور دیگر متعلقہ محکموں کی جانب سے پرکشش نمائش لگائی گئی ہے۔ کسانوں کو مختلف محکموں کے ماہرین سے براہِ راست گفتگو کرنے اور اپنے مسائل کا حل حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ ساتھ ہی انہیں جدید تکنیکوں اور مارکیٹ پر مبنی زرعی ماڈل کی معلومات بھی ملیں گی۔

کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی خدمات، آن لائن زرعی مشاورت، موسم پر مبنی کھیتی، مٹی کی صحت کا انتظام، ڈرون ٹیکنالوجی، اسمارٹ آبپاشی، جدید زرعی آلات اور جدید زرعی انتظامی نظام کی معلومات مل رہی ہیں۔ کسانوں کو بدلتے ہوئے موسم کے مطابق کھیتی کے نئے طریقوں اور خطرات کے انتظام کے اقدامات سے بھی واقف کرایا جا رہا ہے۔

زراعت، باغبانی، مویشی پروری، ماہی پروری، تعاون، ایم ایس ایم ای، ریونیو، توانائی سمیت 16 محکموں کو ایک اسٹیج پر لا کر کسانوں کی ہمہ جہت ترقی کی یہ ایک مہم ہے۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ یہ فیسٹیول صرف ایک پروگرام نہیں، بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور روزگار سے جوڑنے کی ایک وسیع مہم ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع میں آئندہ 13 نومبر تک متعدد پروگرام ہوں گے اور کھیتی کسانی پر مبنی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande