جوہر یونیورسٹی اور سونم وانگچک کے معاملے پر اے ایم یو کے طلبہ کا صدرِ جمہوریہ کے نام میمورنڈم
علی گڑھ, 19 جولائی (ہ س): علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم یونیورسٹی پروکٹر اے ایم یو کو پیش کی جس میں میمورنڈم میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کے خلاف انہدامی کارروائی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگ
اے ایم یو طلبا کا احتجاج


علی گڑھ, 19 جولائی (ہ س): علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم یونیورسٹی پروکٹر اے ایم یو کو پیش کی جس میں میمورنڈم میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کے خلاف انہدامی کارروائی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹائے جانے کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئینی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میمورنڈم کے مطابق، طلبہ نے کہا ہے کہ وہ ملک کے شہری ہونے کے ناطے جمہوری اقدار، تعلیمی اداروں کے تحفظ اور آئینی حقوق کے دفاع کے لیے صدرِ جمہوریہ سے رجوع کر رہے ہیں۔ یادداشت میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے اعلیٰ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ جوہر یونیورسٹی خطے کے پسماندہ اور محروم طبقات کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز ہے، لہٰذا کلاس روم، لیبارٹریوں اور لائبریری جیسی بنیادی سہولیات کو نقصان پہنچانا سینکڑوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرے گا۔ میمورنڈم میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر سے متعلق قوانین کا استعمال سیاسی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

میمورنڈم میں سماجی کارکن سونم وانگچک کے معاملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جنتر منتر پر ان کے پرامن احتجاج کے دوران انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ہٹانا اور حراست میں لینا اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کے آئینی حق کے خلاف ہے۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے جمہوری حقوق اور پرامن احتجاج کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

صدرِ جمہوریہ سے اپنے مطالبات میں طلبہ نے کہا ہے کہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف انہدامی احکامات پر فوری نظرثانی یا ان پر روک لگائی جائے۔پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کے آئینی حق کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کو مناسب ہدایات جاری کی جائیں۔اے ایم یو کے پروکٹر اس میمورنڈم کو باضابطہ طور پر ریکارڈ میں شامل کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ کے سیکریٹریٹ کو ارسال کریں۔میمورنڈم کے اختتام پر اسے دی کنسرنڈ اسٹوڈنٹس آف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande