
بغداد،18جولائی(ہ س)۔عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے جمعہ کے روز کہا کہ ان کا ملک جنگ، اس کے تسلسل اور خطے میں اس کے دائرہ کار میں اضافے کے سخت خلاف ہے۔انہوں نے العربیہ الحدث کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ عراق پر اسے جنگ میں شامل کرنے کے لیے دباو ڈالا جا رہا ہے۔فواد حسین نے بتایا کہ خطے میں جاری جنگ کے باعث عراق کو مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے عراق نے تیل برآمد نہیں کیا، جس کے باعث ملکی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ عراق خلیجی ممالک کے ساتھ اچھے اور مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عراق خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کی مذمت کرتا ہے۔فواد حسین نے یہ بھی اعلان کیا کہ عراق خلیجی ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔ریاست کے پاس اسلحہ محدود کرنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تین مسلح گروہوں نے عملی طور پر اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنا شروع کر دیے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ کتائب حزب اللہ اور حرکت النجبائ کی جانب سے اسلحہ حوالے کرنے کے معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ، جو بعد ازاں عراق اور دیگر پڑوسی ممالک تک پھیل گئی، کے بعد ایران نواز عراقی مسلح گروہ روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan