
تہران،18جولائی(ہ س)۔امریکی فوج کے ذریعہ ایران میں شہریوں کے بنیادی وسائل کو نشانہ بنانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کو خط لکھا ہے جس میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سعید ایروانی نے کہا کہ ’یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی ’کھلی خلاف ورزی‘ اور طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کی ممانعت کی خلاف ورزی ہیں۔‘ایرانی سفیر کے مطابق جمعرات کی رات اور جمعہ کی صبح ہونے والے حملوں میں بندر عباس اور کہورستان بندر خمیر کے راستوں پر کئی اہم پل تباہ ہوئے۔ ان کے مطابق ایک پل کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایک عام شہری کی گاڑی تباہ ہوئی، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔انھوں نے کہا کہ ’بندر عباس کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں ایک شہری ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔‘ایروانی نے بتایا کہ بندر عباس ریلوے سٹیشن، جو بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کا اہم حصہ ہے، کو بھی براہِ راست فوجی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے ٹرمینل کو نقصان پہنچا اور ریلوے کے دو ملازمین زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق اس روٹ پر مسافر ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ’خط میں کہا گیا ہے کہ ’تصدیق شدہ 43 ہلاکتوں میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 22 خواتین اور نو کم عمر بچے شامل ہیں۔‘ایران کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایروانی نے کہا کہ جولائی کے آغاز سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 47 افراد تشویشناک حالت میں ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ سعید ایرانی نے کہا کہ ’شہری املاک، خاص طور پر اہم ٹرانسپورٹ اور ریلوے نیٹ ورک کو بار بار نشانہ بنانا ’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آتا ہے۔انھوں نے واشنگٹن کو جانی نقصان، زخمیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، ماحولیاتی نقصانات اور دیگر نتائج کا مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔ایروانی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنے چارٹر کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرے اور امریکہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی یقینی بنائے۔ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ’اگر اقوامِ متحدہ کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘دوسری جانب امریکہ نے ایران کے پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے حوالے سے ’جنگی جرم‘ کے الزامات پر جواب دیا ہے۔وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف، جن میں عسکری لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی شامل ہے کو نشانہ بنایا ہے۔‘وائٹ ہاوس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز میں زیادہ تر شہری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے ہمسایہ ممالک پر بھی حملے کیے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی حملے کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔‘ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan