
ممبئی ، 17 جولائی (ہ س) گزشتہ چند روز سے سست پڑا مانسون ایک بار پھر مہاراشٹر میں سرگرم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ فضا میں نمی کے بڑھتے ہوئے تناسب اور خلیج بنگال میں سازگار موسمی حالات پیدا ہونے کے باعث آئندہ دنوں میں بارش کی شدت بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرۂ عرب میں کم دباؤ کی پٹی بننے سے سمندر میں طوفانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، جبکہ جنوبی سمت سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سمندر میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور بلند لہریں اٹھ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بارش کے لیے سازگار ماحول بن گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 20 جولائی کے بعد ریاست میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، تاہم اس سے پہلے بھی مختلف علاقوں میں بارش کی شروعات دیکھی جا رہی ہے۔ آئندہ دو سے تین دن کے دوران ریاست کے کئی علاقوں میں اطمینان بخش بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے، لیکن کسان اب بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ اگر اگلے دو سے تین دن کے دوران مناسب بارش نہ ہوئی تو کئی علاقوں میں دوبارہ بوائی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ جون میں کم بارش کے بعد جولائی کے پہلے پندرہ دنوں میں بھی ریاست کے بیشتر علاقوں میں معمول کے مطابق بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔
وسطی مہاراشٹر کے بعض حصوں، جبکہ مراٹھواڑہ اور ودربھ کے بیشتر علاقوں میں جولائی کے اوسط کے مقابلے کم بارش ہوئی ہے اور وہاں بارش کی کمی برقرار ہے۔ اسی وجہ سے ریاست کا تقریباً نصف حصہ خشک سالی جیسی صورتحال کے سائے میں ہے اور کسان شدید فکر میں مبتلا ہیں۔ کئی علاقوں میں بارش کی کمی 20 سے 60 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس وقت شمال مغربی خلیج بنگال میں کم دباؤ کا ایک نیا علاقہ بھی تشکیل پا چکا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ تین دن کے دوران ریاست کے چند علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے، تاہم پورے مہاراشٹر میں یکساں بارش کے امکانات کم بتائے گئے ہیں۔ اگر مانسون کو تقویت دینے والے موسمی نظام مزید فعال ہوئے تو بارش کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جمعہ سے آئندہ تین روز تک ودربھ کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ وسطی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ کے بعض علاقوں میں ہلکی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ادھر ممبئی میں جمعہ کو مضافاتی علاقوں اور وسطی ممبئی میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی۔ صبح سویرے اور دوپہر کے اوقات میں بارش ہونے کے باوجود موسم میں حبس برقرار رہا۔ دوسری جانب الہاس نگر، امبرناتھ اور بدلہ پور علاقوں میں گزشتہ تین دن سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ چند روز کے وقفے کے بعد دوبارہ بارش کی شدت بڑھنے سے شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے اور گاڑی چلانے والوں، پیدل چلنے والوں اور ملازمت پیشہ افراد کو رین کوٹ اور چھتریوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
گڈچرولی ضلع میں بھی تقریباً بیس دن بعد جمعہ کو زوردار بارش ہوئی، جس سے دھان پیدا کرنے والے کسانوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ بارش نہ ہونے کے باعث دھان کی نرسریوں اور دیگر فصلوں کے سوکھ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، تاہم تازہ بارش کے بعد کسانوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ رائے گڑھ ضلع میں بھی بارش دوبارہ شروع ہونے سے دھان کی روائی کے کام میں تیزی آ گئی ہے۔ دیر سے شروع ہونے والے مانسون اور جولائی کے آغاز میں ہونے والی شدید بارش کے باعث کسان مشکلات سے دوچار تھے، لیکن اب مسلسل اچھی بارش کے بعد کھیتوں میں زرعی سرگرمیاں دوبارہ تیز ہو گئی ہیں۔
کولہاپور ضلع میں آٹھ دن کے وقفے کے بعد پھر ہلکی بارش شروع ہوئی ہے۔ گھاٹ علاقوں میں بارش کی شدت بڑھنے سے کسانوں میں خوشی کی لہر ہے، تاہم ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ اب بھی توقع کے مطابق نہیں بڑھا، جس کے باعث مزید اچھی بارش کا انتظار برقرار ہے۔ ناسک ضلع کے مالیگاؤں تعلقہ کے جلکو علاقے میں بادل پھٹنے جیسی شدید بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے متعدد مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔ اچانک ہونے والی موسلادھار بارش سے بعض کھیتوں کی زرخیز مٹی بہہ گئی اور فصلوں کو نقصان بھی پہنچا، تاہم مجموعی طور پر اس بارش نے کسانوں کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں مانسون کی دوبارہ سرگرمی سے زرعی کاموں میں تیزی آنے اور پانی کی قلت کے خدشات کم ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے