سبسکرپشن کے لیے کھلا کیلیبر مائننگ کا آئی پی او، 24 جولائی کوہوسکتی ہے لسٹنگ
نئی دہلی، 17 جولائی (ہ س)۔ کوئلے کی کان کنی کے شعبے کے لیے کام کرنے والی کمپنی کیلیبر مائننگ اینڈ لاجسٹکس کا 450 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ اس آئی پی او میں 21 جولائی تک بولیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایشو کے اختتام کے بعد 2
لسٹ


نئی دہلی، 17 جولائی (ہ س)۔ کوئلے کی کان کنی کے شعبے کے لیے کام کرنے والی کمپنی کیلیبر مائننگ اینڈ لاجسٹکس کا 450 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ اس آئی پی او میں 21 جولائی تک بولیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایشو کے اختتام کے بعد 22 جولائی کو حصص کی الاٹمنٹ کی جائے گی، جبکہ الاٹ کیے گئے حصص 23 جولائی کو ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 24 جولائی کو بی ایس ای اور این ایس ای پر درج کیے جا سکتے ہیں۔اس آئی پی او میںپہلے دن 11.30تک 46 فیصد سبسکرائب ہو چکا ہے۔

اس آئی پی اومیں بولی لگانے کے لیے پرائس بینڈ 402 سے 424 فی شیئر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ کا سائز 35 شیئرز ہے۔ خوردہ سرمایہ کار کم از کم 1 لاٹ، یعنی 35 شیئرز کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,840 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح، خوردہ سرمایہ کار 1,92,920 کی سرمایہ کاری کر کے زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس، یعنی 455 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت کل 1,06,13,207 کروڑ حصص جن کی قیمت 10 روپے ہے فروخت کی جا رہی ہے۔ ان میں سے، تقریباً 400 کروڑ مالیت کے 94,33,962 نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 50 کروڑ کے 11,79,245 حصص آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

اینکر سرمایہ کاروں کو 3,183,960 حصص کی الاٹمنٹ کے بعد، اس آئی پی او میں بقایا حصص کا 28.57فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، 50فیصد خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے 21.43فیصد غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص ہے۔ ڈیم کیپٹل ایڈوائزرز لمیٹڈ کو اس ایشو کے لیے بک رننگ لیڈ منیجر جبکہ کے فن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔

کیلیبر مائننگ اینڈ لاجسٹکس کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو، اس کی مالی صحت مسلسل بہتر ہو رہی ہے، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹر ایس ای بی آئی کے پاس دائر کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2023تا2024 میں، کمپنی کا خالص منافع 95.90 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 131.55 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا خالص منافع 157.90 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں، اس نے 957.92 کروڑ کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 1,435.57 کروڑ ہو گئی۔ اسی طرح، پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں، کمپنی نے 1,684.66 کروڑ کی آمدنی حاصل کی تھی۔

اس دوران کمپنی کے قرضوں میں اتار چڑھاو¿ آتا رہا۔ مالی سال 2023تا2024 کے اختتام پر، کمپنی پر 717.88 کروڑ کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025 میں کم ہو کر 649.27 کروڑ ہو گیا۔ اگلے مالی سال، 2025تا2026 کے اختتام تک، کمپنی پر قرض کا بوجھ 1,057.61 کروڑ تک پہنچ گیاتھا۔

اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں وہ 244.93 کروڑ پر تھے، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 435.71 کروڑ ہو گئے۔ اسی طرح، 2025تا2026میں، کمپنی کے رزرو اور سرپلس 593.96 کروڑ تک پہنچ گئے۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں وہ 295.93 کروڑ پر تھے، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 489.30 کروڑ ہو گئے۔ اسی طرح، 2025تا2026میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 647.54 کروڑ تک پہنچ گئی۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ،ٹیکسز ،ڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2023تا2024 میں 243.14 کروڑ تھی، جو 2024تا2025میں بڑھ کر 349.77 کروڑ ہو گئی۔ اسی طرح، کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 2025تا26 میں 430.92 کروڑ تک پہنچ گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande