
اورنگ آباد، 16 جولائی (ہ س)۔ عثمان آباد ضلع کے کسانوں، عام شہریوں اور طلبہ کو بجلی کی فراہمی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مہاوترن کے من مانی طرزِ عمل کے خلاف شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کی جانب سے مہاوترن دفتر کے سامنے چکہ جام احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت اور مہاوترن پر کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ عثمان آباد ضلع میں بڑے پیمانے پر بجلی پیدا ہونے کے باوجود اسی ضلع کے کسانوں کو دن کے وقت مسلسل، بلا تعطل اور مناسب وولٹیج کے ساتھ بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، جو حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت توانائی سے مالا مال مہاراشٹر کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف کسانوں کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ زراعت مکمل طور پر بجلی پر منحصر ہے، لیکن مہاوترن کی لاپرواہی کے باعث کم وولٹیج کی وجہ سے کسانوں کے کھیتوں میں نصب برقی موٹریں چل نہیں پاتیں، ٹرانسفارمر بار بار جل رہے ہیں، فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے اور کسان شدید مالی بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کا خمیازہ کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔احتجاج کرنے والوں نے ضلع میں بار بار کی جانے والی ایمرجنسی لوڈشیڈنگ پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باعث دیہی علاقوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، طلبہ کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، خواتین کو گھریلو امور انجام دینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔شیو سینا رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت ایک طرف یہ کہتی ہے کہ اسمارٹ میٹر کی تنصیب لازمی نہیں، لیکن دوسری طرف مہاوترن شہریوں کی رضامندی کے بغیر اسمارٹ میٹر نصب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد صارفین کی جانب سے پرانے میٹر دوبارہ نصب کرنے کی تحریری درخواستیں بھی مسترد کی جا رہی ہیں، جبکہ اسمارٹ میٹر نصب ہونے کے بعد بجلی کے بلوں میں اضافے کی شکایات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس سے عوام پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔اس موقع پر مہاوترن کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کو ایک یادداشت پیش کی گئی، جس میں کسانوں کو دن کے وقت کم از کم آٹھ گھنٹے مسلسل اور مناسب وولٹیج کے ساتھ بجلی فراہم کرنے، کم وولٹیج کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے، ایمرجنسی لوڈشیڈنگ بند کرنے، بار بار بجلی منقطع ہونے سے روکنے کے لیے تکنیکی اقدامات کرنے، صارفین کی رضامندی کے بغیر اسمارٹ میٹر نصب کرنے کی مہم روکنے، تحریری درخواست دینے والے صارفین کے پرانے میٹر دوبارہ نصب کرنے اور دیہی علاقوں کے طلبہ و شہریوں کو باقاعدہ بجلی کی فراہمی یقینی بنانے جیسے اہم مطالبات شامل تھے۔احتجاج کے دوران شیو سینا رہنماؤں نے خبردار کیا کہ کسانوں اور عوام کا صبر اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی عوام کا آئینی اور بنیادی حق ہے، کسی کی مہربانی نہیں۔ اگر مہاوترن اور ریاستی حکومت نے فوری طور پر صورتحال بہتر نہ کی تو عوامی حقوق پر ضرب لگانے والوں کو شیو سینا اپنے مخصوص انداز میں جواب دے گی۔احتجاج میں شیو سینا کے سہ رابطہ سربراہ مکرند راجے نمبالکر، سابق ضلع سربراہ بھارت نانا انگلے، خاتون محاذ کی ضلع صدر شاملا تائی وڈنے، پروفیسر دلیپ پاٹل، سابق شہر سربراہ پروین کوکاٹے، یوا سینا کے ضلع سربراہ روی واگھمارے، نائب ضلع سربراہ ساگر براتے، تعلقہ سربراہ راکیش سوریہ ونشی سمیت موجودہ و سابق عہدیداران، شیو سینک اور بڑی تعداد میں کسان شریک ہوئے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے