دواؤں کے گھوٹالے میں گرفتار ڈاکٹر وتسلا اگروال اگر سرکاری گواہ بنیں تو ریکھا گپتا حکومت سے جڑے کئی بڑے لوگ بے نقاب ہوں گے: سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 16 جولائی(ہ س ) ریکھا گپتا حکومت کے 650 کروڑ روپے کے دواوں کے گھوٹالے میں گرفتار سابق ڈی جی ایچ ایس ڈاکٹر وتسلا اگروال کی جانب سے سرکاری گواہ بننے کی خواہش ظاہر کیے جانے پر عام آدمی پارٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس گھوٹالے سے جڑے کئی بڑے نا
دواؤں کے گھوٹالے میں گرفتار ڈاکٹر وتسلا اگروال اگر سرکاری گواہ بنیں تو ریکھا گپتا حکومت سے جڑے کئی بڑے لوگ بے نقاب ہوں گے: سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 16 جولائی(ہ س ) ریکھا گپتا حکومت کے 650 کروڑ روپے کے دواوں کے گھوٹالے میں گرفتار سابق ڈی جی ایچ ایس ڈاکٹر وتسلا اگروال کی جانب سے سرکاری گواہ بننے کی خواہش ظاہر کیے جانے پر عام آدمی پارٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس گھوٹالے سے جڑے کئی بڑے نام بے نقاب ہوں گے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اگر ڈاکٹر وتسلا اگروال سرکاری گواہ بن جاتی ہیں تو ریکھا گپتا حکومت سے وابستہ کئی بااثر افراد قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریکھا گپتا حکومت پر الزام ہے کہ مرکزی خریداری ایجنسی کے ذریعے بازار قیمت سے کئی گنا زیادہ نرخ پر دواوں اور طبی سامان کی خریداری کی گئی۔دلالوں اور فرضی بلوں کے ذریعے کمپنیوں کو بھاری ناجائز منافع پہنچایا گیا۔ اس گھوٹالے کا مرکزی ملزم راجیو رنگیلا بیرونِ ملک فرار ہو چکا ہے، جسے گرفتار کرنا اب تفتیشی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔بدھ کے روز آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے ایکس ( ٹوئٹر) پر لکھا کہ 650 کروڑ روپے کے دواوں اور طبی آلات کی خریداری کے گھوٹالے میں گرفتار سابق ڈی جی ایچ ایس ڈاکٹر وتسلا اگروال نے سرکاری گواہ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اگر عدالت انہیں اس کی اجازت دے دیتی ہے تو خریداری کے پورے عمل میں شامل کئی بااثر افراد اور سیاست دانوں کے کردار کی جانچ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ذرائع کے مطابق اگر ڈاکٹر وتسلا اگروال سرکاری گواہ بنتی ہیں تو وہ ریکھا گپتا حکومت سے وابستہ کئی سیاسی اور نجی شخصیات کے کردار سے پردہ اٹھا سکتی ہیں۔ الزام ہے کہ مرکزی خریداری ایجنسی کے ذریعے بازار قیمت سے کہیں زیادہ نرخوں پر خریداری کی گئی اور دلالوں و فرضی بلوں کے ذریعے کمپنیوں کو ناجائز مالی فائدہ پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق اس گھوٹالے کی تحقیقات کا دائرہ صرف 650 کروڑ روپے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے کہیں آگے تک جا سکتا ہے۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ اس معاملے کا مرکزی ملزم راجیو رنگیلا اب بھی مفرور ہے اور اطلاعات کے مطابق بیرونِ ملک فرار ہو چکا ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب اس کے غیر ملکی روابط، مالی لین دین اور ٹینڈر کے عمل سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کی بھی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہیں۔

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande