
ایچ اے ایل کے ساتھ میٹنگ میں،جی ای ایرو اسپیس نے اگلے سال 20 انجن فراہم کرنے کا وعدہ کیا
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س)۔ ہندوستانی فضائیہ ایک طویل عرصے سے تیجس مارک 1 اے ہلکے لڑاکا طیارے کی فراہمی کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈیلیوری کی آخری تاریخ کو کئی بار پیچھےکر دیا گیا ، لیکن اس دوران امریکی کمپنی جی ای ایرو اسپیس نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کو ساتواں انجن فراہم کیا ہے، جسے کارگو جہاز کے ذریعے یہاں لایا جائے گا۔ انجن کے ساتھ بنیادی مسائل حل ہونے کے بعد، اب ہوائی جہاز کی پیداوار میں تیزی آنے کی امیدیں زیادہ ہیں۔
وزارت دفاع نے ہندوستانی فضائیہ کے لئے ایچ اے ایل کے ساتھ کل 180 ایل سی اے تیجس مارک-1اے لڑاکا طیاروں کا آرڈر دیا ہے۔ پہلا معاہدہ ایچ اے ایل کے ساتھ فروری 2021 میں 48,000 کروڑ میں کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں 73 تیجس مارک-1 اے جیٹ طیارے اور 10 تربیتی طیارے شامل تھے۔ وزارت دفاع نے 25 ستمبر 2025 کو دوسرا آرڈر 62,370 کروڑ میں 97 ایل سی اے مارک -1اے لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے دیا، جس میں 68 سنگل سیٹر اور 29 ٹوئن سیٹر طیارے شامل ہیں، جن کی ترسیل 2027تا2028میں شروع ہونے والی ہے اور چھ سال میں مکمل ہوگی۔
ہندوستانی فضائیہ کو 2024 میں انجنوں کی پہلی کھیپ ملنے کی توقع تھی، لیکن اس دوران کمپنی جی ای ایرو اسپیس (جی ای) نے ایف-404 انجنوں کی تیاری روک دی۔ فروری 2021 میں ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد، ایچ اے ایل کو اس سال مارچ سے تیجس مارک-1 اے لڑاکا طیارہ فراہم کرنا تھا، لیکن امریکہ سے انجنوں کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے انتظار مزید طویل ہوگیا۔ طویل انتظار کے بعد آخر کار کمپنی نے پہلا انجن 26 مارچ 2025 کو ہندوستان کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد جی ای نے دوسرا انجن 13 جولائی کو بھیجا۔
ایچ اے ایل نے 11 ستمبر کو ایل سی اے مارک -1اے کے لیے تیسرا جی ای-404 انجن حاصل کیا۔ کمپنی نے بیک وقت ستمبر کے آخر تک دوسرا انجن فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو 30 ستمبر کو فراہم کیا گیا۔ پانچواں جیٹ انجن گزشتہ سال 5 دسمبر کو فراہم کیا گیا تھا۔ مشرق وسطیٰ کے بحران کے درمیان، جنرل الیکٹرک ایرو اسپیس نے اس سال 2 اپریل کو اس طیارے کے لیے چھٹا انجن ایچ اے ایل کو فراہم کیا۔ انجن کی ترسیل امریکہ میں کی جاتی ہے، اور اب ساتواں انجن کارگو جہاز کے ذریعے یہاں لایا جائے گا۔
ایچ اے ایل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈی کے سنیل نے کہا کہ ایچ اے ایل کا مقصد 2032تا2023 مالی سال تک تمام 180 طیاروں کی پیداوار مکمل کرنا ہے۔ ڈاکٹر سنیل نے بتایا کہ جی ای نے ایک سال میں 12 انجن فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب ہمیں مالی سال کے آخر تک 12 انجن ملنے کا امکان ہے۔ ہمیں اس سال 10 انجن مل سکتے ہیں۔ باقی انجن اگلے سال مارچ تک پہنچ جائیں گے۔ ہم نے پہلے ہی 10ویں طیارے کے لیے فوسیلج بنا لیا ہے، اور 11واں تیار ہے۔ انجنوں کے بنیادی مسائل حل ہو چکے ہیں، اس لیے اب پیداوار میں تیزی آئے گی۔ جی ای نے اگلے سال 20 انجن فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس کے لیے اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی