
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س): دہلی ہائی کورٹ نے اسپائس جیٹ اور اجے سنگھ کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ 45 دن کے اندر کے اے ایل ایئرویز اور کلاندھی مارن کو 50 کروڑ روپے ادا کریں۔ جسٹس سبرامنیم پرساد کی بنچ نے کہا کہ اس رقم کی ادائیگی کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا اسپائس جیٹ ثالثی ٹریبونل کے فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔ معاملے کی اگلی سماعت ستمبر میں ہوگی۔
سپریم کورٹ نے 19 مئی کو ثالثی ٹریبونل کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد اسپائس جیٹ اور اجے سنگھ نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے 144 کروڑ روپے کی ادائیگی کے لیے مقررہ مدت میں توسیع کی درخواست کی۔ اس درخواست کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر 45 دن کے اندر 50 کروڑ روپے ادا کر دیے جاتے ہیں تو ثالثی قانون کی دفعہ 34 کے تحت جاری کارروائی نومبر تک ملتوی کر دی جائے گی۔
ثالثی ٹریبونل نے جولائی 2018 میں اسپائس جیٹ کو حکم دیا تھا کہ وہ کلاندھی مارن کو 270 کروڑ روپے واپس کرے۔ ٹریبونل نے اسپائس جیٹ کو ہدایت دی تھی کہ یہ رقم 12 فیصد سود کے ساتھ ادا کی جائے۔ ٹریبونل کا فیصلہ مارن اور کے اے ایل ایئرویز کے حق میں آنے کے بعد دونوں نے دہلی ہائی کورٹ کی سنگل بنچ سے رجوع کیا تھا، جس نے ثالثی ٹریبونل کے فیصلے کی توثیق کر دی تھی۔
کے اے ایل ایئرویز بھارت کی ایک میڈیا اور فضائی سرمایہ کاری کمپنی ہے، جس کی ملکیت کلاندھی مارن کے پاس ہے۔ اس وقت کمپنی کا اسپائس جیٹ کے ساتھ ثالثی اور ہرجانے سے متعلق قانونی تنازع جاری ہے۔ یہ تنازع فروری 2015 میں ہونے والے حصص کی منتقلی کے معاہدے کے بعد شروع ہوا تھا، جس کے تحت کلاندھی مارن اور کے اے ایل ایئرویز نے اسپائس جیٹ میں اپنی 58.46 فیصد حصص داری اجے سنگھ کے حوالے کر دی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد