
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س): بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے احتجاج کرنے کے بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔
بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چگ نے پیر کے روز میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کے لیے کسی غیر ملکی رہنما کا نام لینا عمر عبداللہ کی نہایت افسوسناک اور غلط کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس سے متعلق کسی بھی معاملے کا حل مکمل طور پر بھارتی آئین اور جمہوری اداروں کے دائرے میں ہی نکالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کئی بار ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔
ترون چگ نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں جمہوریت، ترقی، سیاحت اور بہتر طرزِ حکمرانی کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ یہ خطہ ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے اور یہ سب مودی حکومت کی خدمت اور ترقی پر مبنی پالیسیوں کی بہترین مثالیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب وہ لوگ، جو اپنے ہی انتخابی منشور سے منحرف ہو گئے، ہر محاذ پر ناکام رہے اور اپنے وعدے پورے نہ کر سکے، اب عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہائیوں تک خاندانی سیاست اور علیحدگی پسندی کی بنیاد پر عوام کو گمراہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ عمر عبداللہ نے ریاست کا درجہ بحال کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے 20 جولائی سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے احتجاج کے ایک نئے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ریاست کا درجہ واپس حاصل کرنے کے لیے انہیں آخر کیا کرنا ہوگا؟ انہوں نے کہا، ’’کیا ہمیں ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس جانا پڑے گا؟‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد