
علی گڑھ، 13 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ چھرّا تھانہ علاقے میں نابالغ بچی کو اغوا کر اجتماعی عصمت دری اور تشدد کے معاملے میں علی گڑھ پولیس نے تفتیش مزید تیز کر دی ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نیرج کمار جادون نے کہا ہے کہ مقدمے کی سائنسی بنیادوں پر باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، تمام شواہد جمع کیے جا رہے ہیں اور جلد از جلد عدالت میں مضبوط چارج شیٹ داخل کر کے ملزمان کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
ایس ایس پی نیرج کمار جادون نے بتایا کہ 11 جولائی کی رات تقریباً 9 بجے یوپی-112 کے ذریعے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ چھرّا تھانہ علاقے کی ایک نابالغ بچی کو دو افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور مبینہ طور پر اسے شراب پلا کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی چھرّا پولیس فوری طور پر متحرک ہوئی اور مختلف ٹیمیں تشکیل دے کر کارروائی شروع کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر نامزد ملزمان کشن گوپال ولد راج پال عرف راجو اور سنجو ولد وجے پال، ساکنان گاؤں روکھلا، کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں دونوں ملزمان کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد معزز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں ضلع جیل بھیج دیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ بچی کا واقعے کے فوراً بعد طبی معائنہ کرایا گیا اور بہتر علاج کے لیے اسے جے این میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق بچی اب خطرے سے باہر ہے اور صحت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، جس کے بعد جلد ہی اسے اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کا امکان ہے۔
ایس ایس پی نیرج کمار جادون نے کہا کہ اس حساس مقدمے کی تفتیش مکمل طور پر سائنسی شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ فارنسک رپورٹ، طبی معائنے، جائے وقوعہ سے حاصل شدہ شواہد، الیکٹرانک ثبوت اور دیگر تمام قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں تاکہ عدالت میں مضبوط استغاثہ پیش کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی کوشش ہے کہ جلد از جلد چارج شیٹ عدالت میں داخل کی جائے اور سرکاری وکلاء کے ساتھ مؤثر پیروی کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے معاملات میں علی گڑھ پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور کسی بھی مجرم کو قانون سے بچنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کی شکایت پر ملزمان کے خلاف پاکسو ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ فی الحال تفتیش جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے ہر پہلو کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ کو بروقت انصاف مل سکے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جا سکے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ