
ہوانا، 11 جولائی (ہ س)۔ لاطینی امریکی جزیرہ نما ملک کیوبا میں پانچ دنوں میں دوسری بار پورے ملک کا بجلی کا نظام منقطع ہوگیا۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 30 منٹ پر قومی پاور گرڈ مکمل طور پر بند کر دیا گیا، جس سے پورے جزیرے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ یہ مسئلہ جنوری سے مزید بڑھ گیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو غیر ملکی تیل کی فراہمی تقریبا مکمل طور پر بند کر دی تھی۔
ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر، کیوبا کی سرکاری بجلی کمپنی یونین الیکٹرا نے اطلاع دی کہ قومی بجلی کا نظام اچانک بند ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
یہ واقعہ پیر کو ملک بھر میں بجلی کی ترسیل میں خلل پڑنے کے چند دن بعد پیش آیا ہے۔ اس وقت محکمہ بجلی نے منگل کی رات دیر تک زیادہ تر گرڈ بحال کر دیا تھا اور بدھ کی صبح تمام صوبوں میں بجلی کی فراہمی معمول پر آنے کی تصدیق کی تھی۔
حالیہ مہینوں میں کیوبا میں بجلی کا بحران شدت اختیار جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کا زیادہ تر بجلی کا بنیادی ڈھانچہ 1960 کی دہائی 1980 کی دہائی کا ہے اور اسے طویل عرصے سے دیکھ بھال، ایندھن اور جدید آلات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مارچ میں بھی ملک بھر میں دو مرتبہ بجلی کی سپلائی معطل ہونے کی اطلاع ملی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ غیر ملکی تیل کی فراہمی میں کمی بھی توانائی کے بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت میں کیوبا پر سخت پابندیاں اور تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کے بعد ملک کو درپیش ایندھن کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ کیوبا اپنی تیل کی کل ضروریات کا صرف 40 فیصد گھریلو پیداوار سے پورا کرتا ہے، جبکہ باقی تیل کی درآمد پر منحصر ہے۔
اطلاعات کے مطابق 3 جنوری کو امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ایک فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کر کے نیویارک لایا گیا تھا۔ منشیات اور ہتھیاروں سے متعلق الزامات کے تحت وہ نیویارک جیل میں بند ہیں۔ اس کے فورا بعد، ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وینزویلا اب کیوبا کو تیل یا رقم نہیں بھیجے گا۔ تب سے، ان کی انتظامیہ نے وینزویلا کی تیل کی برآمدات پر کنٹرول برقرار رکھا ہے۔
اسکے علاوہ 29 جنوری کو، ٹرمپ نے ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا کہ کیوبا نے امریکہ کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ پیدا کیا ہے۔ اس حکم کے تحت،ٹرمپ نے کیوبا کو ایندھن فراہم کرنے والے کسی بھی ملک پر بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی۔ تب سے اب تک صرف ایک روسی آئل ٹینکر کیوبا پہنچا ہے، وہ بھی مارچ میں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، کیوبا اپنی تیل کی ضروریات کا صرف 40 فیصد پیدا کرتا ہے۔ باقی تیل بیرون ملک سے آتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد