جی ایس ٹی نے ملک کی تصویر بدل دی، تیز رفتار ترقی نے ہر شعبے میں ہندوستان کو آگے کیا
نئی دہلی، یکم جولائی (ہ س)۔ ’’اصلاحات تبھی کامیاب ہوتی ہیں، جب ان کا فائدہ آخری شخص تک پہنچے۔‘‘ کبھی یہ خیال ’انتودیا‘ پر دیے جا رہے ایکاتم مانو درشن (انٹیگرل ہیومنزم) خطابات کے سلسلے میں ہندوستانی علمی روایت اور سیاست کے اسکالر پنڈت دین دیال اپاد
جی ایس ٹی کی علامتی تصویر


نئی دہلی، یکم جولائی (ہ س)۔ ’’اصلاحات تبھی کامیاب ہوتی ہیں، جب ان کا فائدہ آخری شخص تک پہنچے۔‘‘ کبھی یہ خیال ’انتودیا‘ پر دیے جا رہے ایکاتم مانو درشن (انٹیگرل ہیومنزم) خطابات کے سلسلے میں ہندوستانی علمی روایت اور سیاست کے اسکالر پنڈت دین دیال اپادھیائے نے ظاہر کیا تھا۔ آگے وقت گزرتا گیا اور ملک اپنے لیے ایک ایسا معاشی ٹیکس کا ڈھانچہ کھڑا نہیں کر سکا جو ایک ٹیکس سے پورے ملک کو جوڑتا ہو، لیکن یکم جولائی 2017 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نافذ کردہ جی ایس ٹی ٹیکس اصلاحات معاشی شعبے میں ایک ایسا قدم ثابت ہوئیں، جس نے بازار کو دیکھنے کا نظریہ ہی بدل دیا۔

دراصل، ہندوستان میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا نو سالہ سفر پنڈت دین دیال اپادھیائے کے اس خیال کو درست ثابت کر رہا ہے۔ اس نے دہائیوں پرانے پیچیدہ بالواسطہ ٹیکس (ان ڈائریکٹ ٹیکس) کے نظام کو ختم کر کے پورے ملک کو ایک یکساں ٹیکس نظام سے جوڑ دیا۔ ایسے میں جب ہم اس کے گزشتہ نو برسوں کے سفر کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہی پاتے ہیں کہ ’’آج جی ایس ٹی ہندوستان کی معاشی مضبوطی، ڈیجیٹل گورننس، کوآپریٹو فیڈرلزم اور تیز رفتار ترقی کا ایک مضبوط محور بن چکا ہے۔‘‘

اس ٹیکس نظام کو لے کر اب بازار پرجوش نظر آ رہا ہے۔ ملک بھر کے پرنٹنگ اور کاغذ کی صنعت کی اعلیٰ تنظیم اے آئی ایف ایم پی کے سابق جنرل سکریٹری، ناگپور میں ’اے ڈی گرافکس‘ فرم کے مالک اور ہندوستھان سماچار نیوز ایجنسی کے صدر اروند بھالچندر مارڈیکر کہتے ہیں، ’’آج سے نو برس قبل ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا تھا۔ پورے ہندوستان میں سیلز ٹیکس کو جی ایس ٹی (گڈ اینڈ سروس ٹیکس) میں تبدیل کیا گیا۔ تاجر برادری، کاروباری طبقہ اور صنعتی گھرانے سب اس کے دائرے میں آ گئے۔ بہت ہی کم وقت میں تمام متعلقہ لوگوں نے اسے قبول کر لیا۔ تجسس، شکوک و شبہات اور تھوڑی گھبراہٹ ضرور رہی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے صنعت کی دنیا نے اسے خوشی خوشی قبول کر لیا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مرکزی سطح پر جب جی ایس ٹی نافذ کرنے کا فیصلہ ہو رہا تھا، اتفاق سے اسی دوران میں پرنٹرز کی تنظیم ’آل انڈیا فیڈریشن آف ماسٹر پرنٹرز‘ کا اعزازی سکریٹری تھا۔ یہ تنظیم ڈھائی لاکھ سے بھی زیادہ پرنٹنگ کاروباریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس وقت کے وزیر خزانہ آنجہانی ارون جیٹلی، اس وقت کے وزیر مملکت برائے خزانہ میگھوال اور کئی اعلیٰ افسران و ماہرین سے گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔ اعزازی سکریٹری کی حیثیت سے پورے ہندوستان کا سفر کر کے جی ایس ٹی کی باریکیاں سمجھانے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ آج یہ خوشی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اسے لے کر چاروں طرف مثبت ماحول دکھائی دیتا ہے۔ یقینی طور پر ہندوستانی معیشت کے لیے جی ایس ٹی ایک گیم چینجر کے طور پر سامنے آیا ہے۔‘‘

اروند مارڈیکر کہتے ہیں، ’’گزشتہ نو سالوں میں جی ایس ٹی نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب پالیسی سازی کا عزم، جدید ٹیکنالوجی اور شفاف حکمرانی ایک ساتھ کام کرتے ہیں، تو ملک کی معاشی تصویر بدلتی ہوئی دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور جی ایس ٹی اس کامیابی کا ایک مضبوط ستون بن کر ابھرا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’جی ایس ٹی کا سب سے بڑا اثر ہندوستان کے معاشی انضمام کی شکل میں سامنے آیا۔ آج ملک کا کوئی بھی تاجر یا صنعت کار نسبتاً آسان قوانین کے تحت ملک کے کسی بھی حصے میں کاروبار کر سکتا ہے۔ اس سے مسابقت بڑھی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ملکی بازار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوا۔‘‘

دوسری طرف، ’لگھو ادھیوگ بھارتی‘ تنظیم کی مدھیہ بھارت (ایم پی) کی عہدیدار اوما شرما کا کہنا ہے، ’’جی ایس ٹی نافذ ہونے سے پہلے ہندوستان کا بالواسطہ ٹیکس نظام انتہائی پیچیدہ تھا۔ مرکز اور ریاستوں کی طرف سے لگائے جانے والے ایکسائز ڈیوٹی، سروس ٹیکس، ویٹ، اوکٹرائے، انٹری ٹیکس، انٹرٹینمنٹ ٹیکس، لگژری ٹیکس سمیت 17 مختلف ٹیکسوں اور 13 سیس کا جال تاجروں اور صنعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایک ہی پروڈکٹ پر کئی سطحوں پر ٹیکس لگنے سے ’ٹیکس پر ٹیکس‘ کی صورتحال بنتی تھی، جس سے اشیاء مہنگی ہوتی تھیں اور صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوتی تھی، لیکن جی ایس ٹی نے اس پورے نظام کو بدل دیا۔‘‘

اوما شرما کے مطابق، ’’’ایک قوم، ایک ٹیکس، ایک بازار‘ کے تصور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پورے ملک میں ایک یکساں بالواسطہ ٹیکس نظام نافذ کیا گیا۔ نتیجے کے طور پر، تجارتی نقطۂ نظر سے ریاستوں کی سرحدیں تقریباً ختم ہو گئیں، مال کی نقل و حمل تیز ہوئی، لاجسٹکس کی لاگت گھٹی اور پورے ہندوستان میں کاروبار کرنا پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ آسان ہو گیا۔‘‘ ورلڈ بینک سمیت کئی عالمی اداروں نے بھی ہندوستان میں ’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘ میں آنے والی بہتری کا ذکر کیا ہے، جس میں جی ایس ٹی کا اہم کردار رہا ہے۔ وہیں، ٹیکس نظام کی شفافیت نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھایا ہے۔

’سواولمبی بھارت ابھیان‘ کے آل انڈیا کو-کنوینر اور لگھو ادھیوگ بھارتی کے قومی عہدیدار جیتیندر گپتا اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈیجیٹل انڈیا مہم کو سب سے زیادہ مضبوطی دینے والے نظاموں میں سے ایک مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جی ایس ٹی نیٹ ورک نے ٹیکس انتظامیہ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا۔ آج رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، ٹیکس کی ادائیگی، ان پٹ ٹیکس کریڈٹ، ای-انوائس اور ای-وے بل جیسے تقریباً تمام عمل آن لائن چل رہے ہیں۔ اس سے شفافیت بڑھی، انسانی مداخلت کم ہوئی اور بدعنوانی کے امکانات میں نمایاں کمی آئی۔ ٹیکس دہندگان کا وقت اور لاگت دونوں بچے، وہیں حکومت کو بھی ریئل ٹائم میں معاشی سرگرمیوں کی درست معلومات ملنے لگیں۔‘‘

جیتیندر گپتا کہتے ہیں، ’’مودی حکومت نے جی ایس ٹی کو صرف ریونیو جمع کرنے کا ذریعہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے متوسط طبقے کے تاجروں، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ جی ایس ٹی رجسٹریشن کی حد کو 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 400 لاکھ روپے کرنا، کمپوزیشن اسکیم کی حد 1.5 کروڑ روپے تک بڑھانا اور 5 کروڑ روپے تک کا کاروبار کرنے والوں کے لیے سہ ماہی ریٹرن فائلنگ کی سہولت دینا چھوٹے تاجروں کے لیے بڑی راحت ثابت ہوا۔ وہیں، ایس ایم ایس کے ذریعے صفر ریٹرن داخل کرنے، تین کاروباری دنوں میں رجسٹریشن اور ای-کامرس فروخت کنندگان کے لیے آسان قوانین جیسے نظاموں نے لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو باقاعدہ معیشت سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘

تاہم، وہ اس کے ساتھ ہی جی ایس ٹی سے متعلق کچھ چیلنجوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ جیتیندر گپتا نے کہا، ’’اس کا سب سے زیادہ نقصان بہت چھوٹی صنعتوں کو ہے، مثال کے طور پر کوئی پتے کے ڈونے بنانے والا ہے، اس کا سارا کام نقد میں ہوگا، خام مال وہ نقد خریدے گا اور بیچے گا بھی۔ 400 لاکھ تک جن کی آمدنی و خرچ ہے، انہیں جی ایس ٹی سے چھوٹ ہے، ایسے میں وہ اپنا کوئی جی ایس ٹی نمبر بھی نہیں لے گا، کئی بار بازار سے وہ جو مال خریدے گا، بھلے ہی وہ کسی جی ایس ٹی ہولڈر دکان سے لیا گیا ہو، لیکن اس کے پاس جی ایس ٹی نمبر نہیں ہے، تو اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ملے گا، جبکہ اسے مروجہ قوانین کے مطابق 18 فیصد کا جی ایس ٹی دکاندار کو سامان پر ادا کرنا ہی ہے۔‘‘

انہوں نے یاد دلایا، ’’پہلے ان چھوٹے صنعت کاروں کے مفاد میں حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، اس کمیٹی نے اپنی تجاویز میں کہا تھا کہ 3 کروڑ تک آمدن و خرچ کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس کا 25 فیصد واپس (ریٹرن) کر دینا چاہیے، ساتھ ہی بہت چھوٹی صنعتوں پر کوئی ٹیکس نہ لگایا جائے، انہیں ٹیکس سے مکمل چھوٹ ملے، تاکہ مقامی سطح پر زیادہ روزگار پیدا ہو، یعنی جو ہاتھ سے کیے جانے والے کام ہیں، ان میں ٹیکس کی چھوٹ ہو اور مشینی کاموں پر حکومت ٹیکس وصول کرے، لیکن ابھی اس پر حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے، اگر مرکزی حکومت یہ فیصلہ لے تو ملک میں کروڑوں لوگوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔‘‘

اس سلسلے میں ٹیکس نظام کے لیے کام کر رہے نتن یادو کا کہنا ہے کہ سال 2025 میں نافذ کیے گئے جی ایس ٹی 2.0 نے ٹیکس اصلاحات کو نئی سمت دی۔ ٹیکس کی شرحوں کو مزید آسان بناتے ہوئے زیادہ تر اشیاء کو دو بڑے سلیب- 5 فیصد اور 18 فیصد میں ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔ وہیں تمباکو، آن لائن گیمنگ، کاربونیٹڈ مشروبات، انتہائی مہنگی کاروں اور نجی طیاروں جیسی عیش و عشرت اور صحت کے لیے نقصان دہ اشیاء پر 40 فیصد ٹیکس لگا کر سماجی اور ریونیو کا توازن یقینی بنایا گیا۔ ریفنڈ کے عمل کو تیز کیا گیا، تعمیل (کمپلائنس) کو آسان بنایا گیا اور ٹیکس تنازعات کو کم کرنے کے لیے طریقوں کو مزید شفاف بنایا گیا۔ ان اصلاحات سے صنعتی دنیا، برآمد کنندگان، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کو نئی توانائی ملی ہے۔

نتن یادو کے مطابق، ’’جی ایس ٹی اصلاحات کا فائدہ صنعتوں کے ساتھ ساتھ ضروری اشیاء پر منطقی ٹیکس کی شرحوں سے عام صارفین کو بھی ملا ہے۔ صحت کی خدمات اور ضروری ادویات پر ٹیکس چھوٹ نے خاندانوں کا معاشی بوجھ کم کیا ہے۔ انشورنس خدمات کو مزید قابلِ رسائی بنانے کی سمت میں بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ سستی اشیاء، بہتر دستیابی اور شفاف ٹیکس نظام نے صارفین کا اعتماد مضبوط کیا ہے۔‘‘

جی ایس ٹی کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت اس کے اعداد و شمار میں دکھائی دیتا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق، سال 2017 میں جہاں تقریباً 66.5 لاکھ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان تھے، وہیں مئی 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 1.65 کروڑ پہنچ چکی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی معیشت تیزی سے باقاعدہ (فارمل) شعبے میں تبدیل ہو رہی ہے۔

مجموعی جی ایس ٹی کلیکشن بھی مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ 18-2017 میں تقریباً 7.4 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 26-2025 میں یہ تقریباً 22.27 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اپریل-مئی 2026 میں تقریباً 4.37 لاکھ کروڑ روپے کا کلیکشن ہندوستانی معیشت کی مضبوطی اور بہتر ٹیکس تعمیل کا واضح اشارہ ہے۔

آج جب ہندوستان سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا ہدف لے کر آگے بڑھ رہا ہے، تب جی ایس ٹی اس ہدف کے سنگِ بنیاد کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اس نے ٹیکس نظام کو آسان بنایا، کاروبار کو رفتار دی، صنعتوں کو مسابقتی بنایا، ریاستوں اور مرکز کے درمیان تعاون بڑھایا اور ڈیجیٹل معیشت کو نئی مضبوطی فراہم کی۔

ایسے میں جی ایس ٹی کا نو سالہ سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ دور اندیش قیادت، مسلسل اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے تال میل سے ملک کے معاشی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اصلاحات نیو انڈیا، آتم نربھر بھارت، ڈیجیٹل انڈیا اور وکست بھارت کے عزم کو شرمندۂ تعبیر کرنے والا ایک مضبوط ذریعہ بن گئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande