
برسلز،07جون(ہ س)۔یورپی یونین نے ہفتے کے روز زور دیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والا لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ''تنازع کے خاتمے اور پائیدار امن و سلامتی کے قیام کے لیے ایک نیا موقع'' فراہم کرتا ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی بلاک کو یقین ہے کہ اسرائیل اور لبنان تعمیری انداز میں براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل درآمد کریں اور حزب اللہ کی جانب سے پیش کی جانے والی کسی بھی اضافی شرط کو مسترد کریں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں اور حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے جنوبی علاقے سے انخلا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیل پر بھی زور دیا کہ وہ لبنانی سرزمین سے اپنی افواج واپس بلائے۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ یورپی یونین لبنانی حکومت کی حمایت جاری رکھے گی اور اسرائیل و لبنان کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کے نفاذ میں تعاون کے لیے تیار ہے۔کالاس کے مطابق مسلسل کشیدگی اور فضائی حملوں کے باعث لبنانی عوام کو انسانی، سماجی اور معاشی سطح پر بھاری اور ناقابلِ قبول قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔کایا کالاس نے کہا کہ لبنانی مسلح افواج (فوج) کے لیے یورپی یونین کی حمایت حکومت کی ان کوششوں میں ایک اہم ذریعہ ہے، جن کا مقصد پورے ملک میں اسلحے پر ریاست کی مکمل عملداری قائم کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 4 جون کو یورپی امن سہولت (European Peace Facility) کے تحت لبنانی مسلح افواج کے لیے منظور کی جانے والی 100 ملین یورو کی نئی امداد اس مقصد کے حصول میں براہِ راست مدد فراہم کرے گی اور فوج کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے گی تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مو¿ثر انداز میں انجام دے سکے۔کایا کالاس نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے، جو اسرائیل سے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کا مطالبہ کرتی ہے اور ریاست کے علاوہ تمام مسلح گروہوں خصوصاً حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے پر زور دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی قانون، بشمول انسانی قانون، کی پابندی کرنی چاہیے اور ہر حال میں شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔کالاس نے یورپی یونین کی جانب سے لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) اور اس کے مینڈیٹ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور ان حملوں کی شدید مذمت کی جو اس کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔انہوں نے 4 جون کو ایک اور امن فوجی کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مارچ سے اب تک سات امن اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن فوجیوں کا قتل بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس پر مکمل احتساب ہونا چاہیے۔کالاس نے مزید کہا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی موجودگی، خاص طور پر ''یونیفل'' کے بعد کے مرحلے میں بھی، قرارداد 1701 کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین اس تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف آپشنز پر سلامتی کونسل میں تعمیری گفتگو کا منتظر ہے۔دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیرِاعظم نواف سلام نے مو¿قف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات لبنانی عوام خصوصاً جنوبی علاقوں کے لیے بہترین راستہ ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan