
نیو چنڈی گڑھ، 5 جون (ہ س)۔ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ سے قبل ہندوستانی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی تجویز کی حمایت کی ہے، جس میں خراب روشنی کی صورتحال میں ٹیسٹ میچوں کے دوران سرخ گیند کے بجائے گلابی گیند کو استعمال کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔
گمبھیر نے پری -میچ کانفرنس میں کہا کہ اگر نتیجہ نکالنے کا موقع بنتاہے تو اسےہر حال میں دستیاب کرایا جانا چاہیے۔ اگر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچنے کے لیے آخری ٹیسٹ فیصلہ کن ہو اور خراب روشنی کی وجہ سے پورا میچ نہیں کھیلا جا سکتا ہے تو یہ ٹیموں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں اس خیال کی حمایت کرتا ہوں، اگر دونوں کپتان متفق ہیں اور میچ کا فیصلہ ہو سکتا ہے تو ایسا ہونا چاہیے۔ کھلاڑی دو سال تک محنت کرتے ہیں اور اگر خراب روشنیکی وجہ سے وہ مواقع سے محروم ہو جائیں تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔‘‘
ہندوستانی ٹیم نے حال ہی میں جنوبی افریقہ سے ہوم ٹیسٹ سیریز 2-0 سے ہاری تھی۔ فی الحال، ہندوستان نو میچوں میں 48.15 فیصد پوائنٹس کے ساتھ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود گمبھیر نے فائنل میں پہنچنے پر اعتماد ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک آپ کے پاس فائنل تک پہنچنے کا موقع ہے، ہمیشہ امید رہتی ہے۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ اور معیار، دونوں ہیں۔ ایک بری سیریز ہماری صلاحیت کو کم نہیں کرتی۔ ڈریسنگ روم میں موجود ہر کھلاڑی کا ماننا ہے کہ ہم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیت سکتے ہیں۔
گمبھیر سائی سدرشن کو زیادہ موقع دینے کے حق میں - اگرچہ افغانستان ٹیسٹ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ نہیں ہیں ، لیکن سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز سے پہلے یہ ہندوستان کے لیے اہم مقابلہ مانا جا رہا ہے۔
ہندوستان تیسرے نمبر کے بلے باز کی تلاش میں ہے، کیونکہ شبھمن گل کے چوتھے نمبر پر جانے سے ایک جگہ خالی ہوئی ہے۔ سائی سدرشن اور دیودت پڈیکل کو اس عہدے کے لیے متبادل کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم، گمبھیر نے واضح کیا کہ سائی سدرشن کو ابھی تک کافی مواقع نہیں ملے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’سائی نے اب تک بہت کم ٹیسٹ کھیلے ہیں اور ان کا ٹیسٹ کیریئر انگلینڈ جیسے مشکل حالات میں شروع ہوا تھا۔ انہوں نے حال ہی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں مناسب موقع دیا جانا چاہیے۔‘‘
دیو دت پڈیکل کے بارے میں گمبھیر نے کہا کہ جب ان کا وقت آئے گا تو انہیں بھی مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں گے، لیکن فی الحال ٹیم سائی سدرشن کو طویل موقع دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا،’’اگر ہم کسی کھلاڑی کو صرف چار یا پانچ ٹیسٹوں کی بنیاد پر پرکھتے ہیں، تو ہم مستقبل کے لیے ایک مضبوط ٹیم نہیں بنا پائیں گے۔ سائی ایک عالمی معیار کا کھلاڑی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔‘‘
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد