روسی صدرپوتن نے ڈونباس پر قبضے کے 15 دعوے کیے مگر ناکام رہے:زیلنسکی کا طنز
کیف،30جون(ہ س)۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی فوجی مہم کا مذاق اڑاتے ہوئے پیر کی رات کہا کہ کریملن نے گزشتہ چار برسوں سے زیادہ عرصے میں ڈونباس کے مشرقی علاقے پر قبضے کے لیے 15 بار حتمی تاریخیں مقرر کیں، مگر ہر بار ان میں تاخیر اور ناکامی کا
روسی صدرپوتن نے ڈونباس پر قبضے کے 15 دعوے کیے مگر ناکام رہے:زیلنسکی کا طنز


کیف،30جون(ہ س)۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی فوجی مہم کا مذاق اڑاتے ہوئے پیر کی رات کہا کہ کریملن نے گزشتہ چار برسوں سے زیادہ عرصے میں ڈونباس کے مشرقی علاقے پر قبضے کے لیے 15 بار حتمی تاریخیں مقرر کیں، مگر ہر بار ان میں تاخیر اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔زیلنسکی کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ،جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس سے قبل یوکرین کی اس تجویز کو مسترد کیا تھا ،جس میں طویل فاصلے تک حملوں کو روکنے اور لڑائی میں نرمی کی بات کی گئی تھی۔

زیلنسکی نے کہا کہ پوٹن کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ روسی عوام کے حقیقی حالات سے دور ہیں، جو اس وقت ایندھن کے بحران اور پیٹرول پمپوں پر طویل قطاروں کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ یوکرین کی جانب سے روسی تیل کی صنعت پر حملے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ روسی سیاسی قیادت اب بھی ڈونباس کے علاقے پر حد سے زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اور اگر روس نے جنگ ختم نہ کی تو اسے دوبارہ اپنے اہداف کی تاریخیں مو¿خر کرنا پڑیں گی۔زیلنسکی نے روسی فوجی پیش رفت کو بھی کم اہم قرار دیا اور کہا کہ کریملن کے دعوے زمینی حقیقت سے مختلف ہیں۔واضح رہے کہ روس شروع سے ہی ڈونباس پر کنٹرول کو اپنی فوجی مہم کا مرکزی مقصد قرار دیتا رہا ہے، کیونکہ یہ علاقہ مشرقی یوکرین میں جنگی کارروائیوں کا اہم مرکز ہے۔اس وقت روسی افواج ڈونباس کے تقریباً 90 فیصد حصے پر قابض ہیں، جس میں ڈونیتسک اور لوہانسک کے علاقے شامل ہیں۔

روسی صدر کے مطابق رواں سال کے آغاز میں اس علاقے میں روسی افواج کی تعداد تقریباً 7 لاکھ بتائی گئی تھی، جسے ماسکو ''خصوصی فوجی آپریشن'' کا حصہ قرار دیتا ہے۔

یہ اس دوران سامنے آیا ہے ،جب روس نے زاپوریزیا جوہری بجلی گھر کے اطراف یوکرینی حملوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ حملے اس حساس نیوکلیئر تنصیب کی سلامتی اور تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ چند گھنٹوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے دوران ڈرون حملوں کا وسیع تبادلہ ہوا۔کیف نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے ہیں۔دنیپرو کے علاقائی گورنر کے مطابق ایک میزائل حملے میں شہر میں چھ افراد ہلاک اور انتیس زخمی ہوئے ہیں۔ یہ شہر جنوب مشرقی یوکرین میں واقع ہے۔اسی طرح مقامی حکام نے بتایا کہ روس نے زاپوریزیا میں ایک چھوٹی مسافر بس کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو مرد اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande