
دھرم شالہ، 03 جون (ہ س)۔ تبت کے روحانی پیشوا 14ویں دلائی لامہ کو بدھ کے روز دھرم شالہ میں ان کی رہائش گاہ پر باوقار گریمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں عالمی شہرت یافتہ سرود نواز استاد اُستاد امجد علی خان نے اپنے بیٹوں امان علی بنگش اور ایان علی بنگش کے ساتھ پیش کیا۔
دلائی لامہ تنزِن گیاتسو نے اپنے اسپوکن ورڈ البم 'میڈیٹیشنز: دی ریفلیکششنز آف ہز ہولینیس دی دلائی لامہ' کے لیے 'بہترین آڈیو بک، بیانیہ، اور کہانی سنانے کی ریکارڈنگ' کے زمرے میں اپنا پہلا گریمی ایوارڈ جیتا ہے۔کے زمرے میں اپنا پہلا گریمی ایوارڈ حاصل کیا۔ 90 سالہ دلائی لامہ کے اس البم میں ان کی تعلیمات کو معروف فنکاروں کی موسیقی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں امن اور ہمدردی کا پیغام پہنچانا ہے۔ اس البم میں دلائی لامہ کی امن، ہمدردی، ذہنی بیداری اور عالمی ذمہ داری سے متعلق تعلیمات کو موسیقی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
اس موقع پر اُستاد امجد علی خان نے کہا کہ موسیقی سرحدوں کو توڑتی ہے اور دلوں کو جوڑتی ہے۔ دلائی لامہ کی آواز میں جو سکون ہے، وہ اس گریمی ایوارڈ کی اصل حق دار ہے۔
ایوارڈ وصول کرتے ہوئے 14ویں دلائی لامہ نے پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسیقی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اندرونی سکون اور ہمدردی پیدا کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
اس پورے منصوبے اور البم کی تیاری میں بھارتی نژاد امریکی موسیقار و پروڈیوسر کبیر سہگل نے شریک پروڈیوسر کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ کئی گریمی ایوارڈز جیتنے والے کبیر سہگل نے دلائی لامہ کے خیالات کو عالمی موسیقی کے پلیٹ فارم تک پہنچانے کے اپنے تجربے کو بھی بیان کیا۔
واضح رہے کہ موسیقی کی دنیا میں اس ایوارڈ کو آسکر کے برابر اہمیت حاصل ہے۔ اس موقع پر معروف موسیقار و مصنف کبیر گِل سہگل بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد