مدھیہ پردیش سے متحدہ عرب امارات کو جی آئی ٹیگ والے ریوا سندرجا آموں کی پہلی تجارتی کھیپ برآمد
اپیڈا نے تعاون کیا، مدھیہ پردیش کی باغبانی مصنوعات کو ملی غیر ملکی مارکیٹ بھوپال، 27 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع کا سندرجا آم اب عالمی مارکیٹوں کی شان بن گیا ہے۔ مرکزی وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت زرعی اور ڈبہ بند غذائی مصنوعات برآمدات
ریوا ضلع کے سندرجا آم کی فائل فوٹو


اپیڈا نے تعاون کیا، مدھیہ پردیش کی باغبانی مصنوعات کو ملی غیر ملکی مارکیٹ

بھوپال، 27 جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع کا سندرجا آم اب عالمی مارکیٹوں کی شان بن گیا ہے۔ مرکزی وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت زرعی اور ڈبہ بند غذائی مصنوعات برآمداتی ترقیاتی اتھارٹی (اپیڈا) کے تعاون سے جی آئی ٹیگ والا ریوا سندرجا آم مدھیہ پردیش سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پہلی تجارتی برآمد کے طور پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی مارکیٹوں میں ہندوستان کی مخصوص زرعی مصنوعات کو فروغ دینے میں یہ ایک اہم کامیابی ہے۔ کسان فلاح و بہبود کے سال کے پیشِ نظر یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

رابطہ عامہ افسر اوینیش سومکنور نے ہفتہ کو بتایا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے اپیڈا نے مدھیہ پردیش حکومت کے محکمۂ باغبانی، برآمد کنندگان، کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی او)، پیکنگ ہاوس آپریٹرز اور بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ مل کر آم کی اس بہترین قسم کی برآمد کے لیے رابطہ قائم کرنے کا کام کیا ہے۔ ان مربوط کوششوں کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات میں ایک خریدار کی شناخت ہوئی جس سے مشہور ریوا سندرجا آم کی بین الاقوامی مارکیٹنگ کی راہ کھلی۔

انہوں نے بتایا کہ جی آئی ٹیگ والے ریوا سندرجا آموں کی پہلی تجارتی برآمداتی کھیپ میں ایک میٹرک ٹن آم شامل تھے اور یہ 26 جون 2026 کو میسرز سالٹ رینج فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے متحدہ عرب امارات کو برآمد کی گئی۔ یہ تاریخی کھیپ ریوا سندرجا آم کے بین الاقوامی سفر کے آغاز کی علامت ہے اور آنے والے وقت میں باقاعدہ برآمدات کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔

رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ برآمداتی کھیپ میں اعلیٰ معیار کے جی آئی ٹیگ سے لیس ریوا سندرجا آم شامل تھے جنہیں مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع کے گوند گڑھ کے رہائشی سے اوندھا فارمر پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ اور ترقی پسند کسان سونو گپتا سے حاصل کیا گیا تھا۔ آموں کی کٹائی طے شدہ معیارات کے مطابق کی گئی تھی اور اترپردیش کے بھدوہی میں واقع تری ساگر فارمر پروڈیوسر کمپنی کے اپیڈا سے منظور شدہ پیک ہاوس میں ان کی گریڈنگ، چھنٹائی اور برآمد کے لائق پیکیجنگ کی گئی تھی۔ برآمداتی پیکیجنگ اور پودوں کی صحت سے متعلق شرائط کو پورا کرنے کے بعد آموں کی کھیپ کو وارانسی ہوائی اڈے لایا گیا جہاں سے اسے فضائی راستے سے متحدہ عرب امارات بھیج دیا گیا۔

اس تجارتی برآمد سے ریوا خطے کے آم کی باغبانی کرنے والوں کو نمایاں معاشی فائدہ ملنے کی امید ہے۔ مقامی مارکیٹ میں ریوا سندرجا آم کی موجودہ قیمت تقریباً 100 سے 110 روپے فی کلوگرام ہے، جبکہ برآمد کنندہ نے اسے 150 روپے فی کلوگرام کی شرح سے خریدا ہے۔ فی کلوگرام 40 سے 50 روپے کا یہ فائدہ کسانوں کو براہِ راست ملتا ہے جو برآمد پر مبنی ویلیو چینز میں پیدا کنندگان کو شامل کرنے کے معاشی فوائد کو ظاہر کرتا ہے۔ اس پہل سے زیادہ سے زیادہ کسانوں کو معیاری پیداوار اور کٹائی کے بعد کے عمل کو اپنانے کی ترغیب ملنے اور بین الاقوامی بازاروں تک ان کی رسائی بڑھنے کی بھی امید ہے۔

رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ اس کامیاب برآمد سے بین الاقوامی مارکیٹوں میں خطے کی مخصوص زرعی مصنوعات کو ایک منفرد شناخت دلانے میں جغرافیائی اشاریہ (جی آئی) رجسٹریشن کی اہمیت پر مزید زور دیا گیا ہے۔ غیر معمولی مٹھاس، بھرپور خوشبو، ریشے کے بغیر گودے اور منفرد ذائقے کے لیے مشہور ریوا سندرجا آم میں برآمدات کے بے پناہ امکانات ہیں۔ تجارتی برآمد سے اس دیسی قسم کی عالمی پہچان بڑھنے کی امید ہے اور اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش بہترین قسم کے آموں کی برآمد کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر قائم ہو گا۔

متحدہ عرب امارات کو جی آئی ٹیگ والے ریوا سندرجا آموں کی پہلی تجارتی برآمداتی کھیپ کی تاریخی کامیابی کے موقع پر 26 جون 2026 کو پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب مدھیہ پردیش سے زرعی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اپیڈا کی مسلسل کوششوں میں ایک اہم کامیابی ثابت ہوئی اور اپیڈا، مدھیہ پردیش حکومت کے محکمۂ باغبانی، برآمد کنندگان، کسان پیداواری تنظیموں، پیک ہاوس آپریٹرز اور کسانوں کے درمیان تعاون کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔

اپیڈا برآمداتی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا کر، بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد یقینی بنا کر، مارکیٹ کے روابط تیار کر کے اور عالمی مارکیٹوں میں ہندوستان کی زرعی مصنوعات کو فروغ دے کر جی آئی ٹیگ والی اور ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات کی برآمد کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ریوا سندرجا آموں کی تجارتی برآمد کے شاندار آغاز سے ہندوستان سے جی آئی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے، زرعی برآمداتی نظام کو مضبوط بنانے اور ریوا خطے کے آم پیدا کرنے والے کسانوں کی مستقل آمدنی میں اضافے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

واضح رہے کہ دو سال پہلے ریوا ضلع کے گوند گڑھ میں پیدا ہونے والے سندرجا آم کو جیوگرافیکل انڈیکیشن (جی آئی) ٹیگ ملا۔ 1968 میں سندرجا پر ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا تھا۔ یہ دیکھنے میں خوبصورت اور ذائقے میں لاجواب ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی بہت اچھی ہوتی ہے۔ یہ پہلی بارش کے بعد پک جاتا ہے اور صرف گوند گڑھ کے ماحول میں ہی پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہاں کی مٹی اور درجہ حرارت سندرجا کے درخت کے پھلنے پھولنے کے لیے بالکل مناسب ہیں۔ پتی، چھال، بیج ہر حصہ کام کا ہوتا ہے۔ یہ ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے اور اس میں وٹامن اے، وٹامن سی اور آئرن بھرپور مقدار میں ہوتا ہے۔ ذیابیطس (شوگر) کے مریض بھی اسے پسند کرتے ہیں کیونکہ اس میں شوگر کی مقدار کم ہوتی ہے۔ سندرجا ریوا ضلع اور پورے مدھیہ پردیش کی پہچان بن گیا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ ریوا کے فروٹ ریسرچ سینٹر، کتھولیا میں آم پر مزید ریسرچ چل رہی ہے۔ یہاں الگ الگ ورائٹی کے 2345 آم کے درخت لگائے گئے ہیں، جن میں بنیادی طور پر بمبئی گرین، اندرا، دشہری، لنگڑا، گدھوا، امرپالی اور ملیکا شامل ہیں۔ بان ساگر ڈیم نہر ریوا اور آس پاس کے اضلاع میں باغبانی کی فصلوں کے لیے لائف لائن ثابت ہوئی ہے، جس سے فوڈ پروسیسنگ کی چھوٹی صنعتوں کے لیے کافی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ گوند گڑھ علاقے میں ہی آم کے اچھے باغات ہیں۔ یہاں تقریباً 237 طرح کے آم اگائے جاتے ہیں۔ سبھی کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ ریوا فرانس، یو ایس اے، یو کے اور یو اے ای کو آم ایکسپورٹ کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande