غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ’خطوط غالب انتخاب‘ مرتبہ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی پر مذاکرے کا انعقاد
نئی دہلی،20جون(ہ س)۔غالب انسٹی ٹیوٹ نے اردو کے سینئر استاد اور ناقد پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی کتاب ’خطوط غالب انتخاب‘ دسمبر 2025 میں شائع کی تھی جس کی ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی ہوئی۔ اسی کتاب پر غالب انسٹی ٹیوٹ نے 20/جون کو مذاکرے کا انعقاد کی
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ’خطوط غالب انتخاب‘ مرتبہ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی پر مذاکرے کا انعقاد


نئی دہلی،20جون(ہ س)۔غالب انسٹی ٹیوٹ نے اردو کے سینئر استاد اور ناقد پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی کتاب ’خطوط غالب انتخاب‘ دسمبر 2025 میں شائع کی تھی جس کی ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی ہوئی۔ اسی کتاب پر غالب انسٹی ٹیوٹ نے 20/جون کو مذاکرے کا انعقاد کیا۔ جلسے کی صدارت سابق صدر شعبہءاردو جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر وہاج الدین علوی نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر علوی نے کہا غالب محمد شاہی عہد میں جوان ہوئے، انگریزوں کا دور دیکھا، غدر کا ہنگامہ دیکھادو بڑی اور مختلف تہذیبوں کی آویزش دیکھی اس نے ان کے ذہن میں غیر معمولی کشادگی پیدا کی اور اس کا اظہار ان کی شاعری کے علاوہ خطوط میں بخوبی ہوا ہے۔ پروفیسر قدوائی نے خطوط کے انتخاب میں بڑی جز رسی کا ثبوت دیا ہے اس لحاظ سے یہ انتخاب پہلے کے سارے انتخاب سے الگ تجربے کا احساس کراتا ہے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا مجھے خوشی ہے کہ اس کتاب کے بہانے مجھے ان دوستوں سے ملنے کا موقع ملا جن کی یاد تو آتی ہے لیکن ملاقات کا موقع کم ملتا ہے۔ آج کتاب کے جن پہلوو¿ں پر بات ہوئی ان کی روشنی میں میں دوبارہ اس انتخاب کا مطالعہ کروں گا۔

پروفیسر شہپر رسول نے کہا انتخاب میں ہمیشہ یہ گنجائش رہتی ہے کہ ایک شخص جس بات کو اہمیت دے دوسرا اسے غیر اہم قرار دے۔ کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی بات کو ایک ایسا زاویہ دے دیا جاتا ہے جو پڑھنے والے کی ذہن کی پیداوار ہوتا ہے۔ مثلاً ارود کے ایک گیانی پروفیسر نے غالب کے ایک خط کو بنیاد بنا کر ان پر تعصب کا الزام لگایا جس کی کوئی بنیاد سرے سے نہیں تھی۔ ڈاکٹر خالد علوی نے کہا میں نے اس انتخاب کا کلیات خطوط غالب سے موازنہ کیا کہ یہ سمجھ سکوں کہ پروفیسر قدوائی نے کن خطوط کو چھوڑ دیا ہے۔ ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ غالب کے خطوط میں کئی بار تکرار کی کیفیت ہے قدوائی صاحب نے ان خطوط کو انتخاب میں شامل نہیں کیا جن میں تکرار کی کیفیت ہے۔ جن خطوط میں غیر ضروری طوالت ہے انکو بھی انتخاب سے دور رکھا ہے۔ غالب کے خطوط کو مجموعی طور پر پڑھنے سے جو تاثر قائم ہوتا ہے اس انتخاب میں اس طلسم کو باقی رکھا گیا ہے یہ اس انتخاب کی نمایاں خوبی ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ نے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا غالب کی شاعرانہ عظمت سب پر عیاں ہے لیکن ان کے خطوط بھی تہذیبی، سیاسی، معاشرتی مطالعہ میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ ہم اردو والوں کی بد قسمتی ہے کہ غالب کے علاوہ دوسرے شعرا مثلاً میر، سودا، ذوق وغیرہ کے خطوط کا کچھ سراغ نہیں ملتا لیکن اس کمی کی تلافی خطوط غالب سے کسی حد تک ہوجاتی ہے۔ ایک سوال میرے سامنے یہ تھا کہ خلیق انجم کی مرتبہ کلیات خطوط غالب اور انتخاب خطوط غالب کی موجودگی میں اس انتخاب کی کیا ضرورت تھی۔ لفظ انتخاب خود بتاتا ہے کہ ایک انتخاب کے بعد دوسرے انتخاب کی ضرورت بہر حال رہتی ہے۔ پڑھے ہوئے متن کو دوبارہ پڑھنا پہلے تجربے سے مختلف ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک انتخاب کو پڑھنے کے بعد اکثر یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ دوسرے زاویے سے بھی انتخاب مرتب ہوسکتا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا غالب انسٹی ٹیوٹ نے غالب کے خطوط کو کلیات کی شکل میں بھی شائع کیا ہے اور انتخاب کی شکل میں بھی۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کو ہم نے دیکھا ہے کہ اس انتخاب کے دوران وہ صبح گیارہ بجے غالب انسٹی ٹیوٹ آجاتے تھے اور دوپہر تک صرف یہی کام کرتے تھے۔ اس انتخاب کی تیاری کے دوران ہم نے انھیں بڑا پرجوش پایا۔ اس طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کا ان خطوط سے صرف ادبی تعلق نہیں ہے بلکہ زندگی کے تئیں غالب کا جو مثبت رویہ تھا وہ غالب اور قدوائی صاحب کے درمیان مشترک ہے۔ اس موقع پر علم و ادب کی مقتدر شخصیات موجود تھیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande