مہاراشٹر کابینہ نے کسان قرض معافی اسکیم کو منظوری دی ، تقریباً 56 لاکھ کسانوں کو ملے گا اسکیم کا فائدہ
دو لاکھ روپے تک کے بقایا فصلی قرضے معاف کیے جائیں گےممبئی ، 2 جون (ہ س) ۔ مہاراشٹر حکومت نے زرعی شعبے کو بڑی راحت دیتے ہوئے ’’پنیہ شلوک اہلیہ دیوی ہولکر شیتکری قرض معافی یوجنا‘‘ کو باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ ریاستی کابینہ کے اس فیصلے سے ریاست بھر
مہاراشٹر کابینہ نے کسان قرض معافی اسکیم کو منظوری دی ، تقریباً 56 لاکھ کسانوں کو ملے گا اسکیم کا فائدہ


دو لاکھ روپے تک کے بقایا فصلی قرضے معاف کیے جائیں گےممبئی ، 2 جون (ہ س) ۔ مہاراشٹر حکومت نے زرعی شعبے کو بڑی راحت دیتے ہوئے ’’پنیہ شلوک اہلیہ دیوی ہولکر شیتکری قرض معافی یوجنا‘‘ کو باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ ریاستی کابینہ کے اس فیصلے سے ریاست بھر کے تقریباً 56 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ اس منصوبے پر سرکاری خزانے سے تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق 30 ستمبر 2025 تک بقایا رہنے والے فصلی قرضوں پر دو لاکھ روپے تک کی مکمل قرض معافی دی جائے گی۔ اس اقدام کو ریاست کے کسانوں کے لیے ایک بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے مارچ میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس کے دوران اس اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ مہایوتی کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لیے حکومت پُرعزم ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اب اس منصوبے کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اسکیم کے تحت ایسے اہل کسان جن کے فصلی قرضے دو لاکھ روپے تک بقایا ہیں، ان کے قرض مکمل طور پر معاف کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ان کسانوں کے لیے 50 ہزار روپے کی خصوصی ترغیبی امداد کا بھی اعلان کیا ہے جنہوں نے مسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ اپنے قرضوں کی ادائیگی کی ہے۔ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس اسکیم سے ریاست کے تقریباً 56 لاکھ کسان مستفید ہوں گے۔ حکومت کے مطابق اس بڑے منصوبے پر تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے کا مالی بوجھ پڑے گا۔ قانون ساز کونسل انتخابات کے پیش نظر نافذ ضابطۂ اخلاق کے تناظر میں ریاستی حکومت کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بھی اس تجویز کو منظوری دے دی تھی، جس کے بعد کابینہ کے سامنے اسے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس سے قبل اسکیم کو 30 جون 2026 سے پہلے نافذ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حکومت نے قرض معافی کے معیار طے کرنے اور زرعی بحران کا جائزہ لینے کے لیے ایم آئی ٹی آر اے ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروین پردیشی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ ریاستی کابینہ کا یہ فیصلہ مہاراشٹر میں نافذ کی جانے والی تیسری بڑی قرض معافی اسکیم ہے، جو حکومت کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور زرعی عدم استحکام سے متاثر کسانوں کو راحت فراہم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande