
لدھیانہ ، 17 جون (ہ س)۔مبینہ وائرل ویڈیو معاملے میں وزیراعلیٰ بھگونت مان کے استعفیٰ کی مانگ کو لے کر اکالی دل (وارث پنجاب دے) نے بدھ کو لدھیانہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کیااور وزیر اعلی بھگونت مان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی کارکنوں نے احتجاجی مارچ میں وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے لگائے اور ان کا پتلا نذر آتش کیا۔ گورنر پنجاب کے نام ایک میمورنڈم اس کے بعد ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر کے حوالے کیا گیا کیونکہ ڈپٹی کمشنر وہاں موجود نہیں تھے۔
مظاہرے کی قیادت جتھیدار جسونت سنگھ چیمہ، راجیو کمار لولی اور سندیپ سنگھ روپل نے کی۔ رہنماو¿ں نے کہا کہ یہ معاملہ سکھ برادری کے مذہبی جذبات، پنجاب کے لوگوں کے آستھا اور آئینی احتساب سے متعلق ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متنازعہ وائرل ویڈیو جس میں وزیر اعلی بھگونت مان شامل ہیں مبینہ طور پر سکھ گرو صاحبان اور سنت جرنیل سنگھ خالصہ بھنڈرانوالے سے منسلک مذہبی علامتوں کے تئیں توہین آمیز رویے کو دکھایا گیا ہے۔
پارٹی رہنماو¿ں نے کہا کہ جب اکال تخت صاحب کے سامنے طلب کیا گیا تو وزیر اعلیٰ نے اس ویڈیو کو جعلی اوراے آئی سے تیار شدہ بتادیا۔ تاہم، اکال تخت صاحب کی ہدایات پر کیے گئے فرانزک ٹیسٹوں میں ویڈیو میں ترمیم، چھیڑ چھاڑ ، ڈیپ فیک، یا اے آئی پر مبنی ہیرا پھیری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ قائدین کے مطابق بعد ازاں اکال تخت صاحب کی طرف سے جاری ہونے والے حکم نامے نے معاملہ مزیدسنگین کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب کسی ایک ویڈیو تک محدود نہیں ہے ، بلکہ اس میں عوام اور سکھ برادری کے وزیر اعلیٰ کے دعووں کی سچائی بھی شامل ہے۔ رہنماو¿ں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی بھگونت مان کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے اور پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک موجودہ جج کی نگرانی میں آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بروقت تفتیش کی جائے۔پارٹی رہنماو¿ں نے کہا کہ تحقیقات کو متاثر ہونے سے روکنے کے لیے وزیر اعلیٰ کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں کلوندر سنگھ چندی، اجیت سنگھ بال ، ہربھجن سنگھ ایالی اور سجیہ پروین سمیت متعدد رہنما اور کارکن موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan