عالمی یوگاسن چمپئن شپ نے ماریشس کے نوجوانوں کو ان کی ہندوستانی جڑوں سے جوڑا
احمد آباد، 11 جون (ہ س)۔ ماریشس کے نوجوانوں کے لیے، ہندوستان خاندانی کہانیوں، دادا دادی کی یادوں، اور بات چیت کا صرف ایک حصہ تھا جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ تاہم، احمد آباد میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی یوگاسن چیمپئن شپ نے پہلی بار اس تعلق کو ان
عالمی یوگاسن چمپئن شپ نے ماریشس کے نوجوانوں کو ان کی ہندوستانی جڑوں سے جوڑا


احمد آباد، 11 جون (ہ س)۔

ماریشس کے نوجوانوں کے لیے، ہندوستان خاندانی کہانیوں، دادا دادی کی یادوں، اور بات چیت کا صرف ایک حصہ تھا جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ تاہم، احمد آباد میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی یوگاسن چیمپئن شپ نے پہلی بار اس تعلق کو ان کے لیے حقیقی تجربے میں بدل دیا۔

ماریشس کے بہت سے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ مقابلہ صرف بین الاقوامی اسٹیج پر حصہ لینے کا موقع ہی نہیں تھا بلکہ اپنے آباو¿ اجداد کی سرزمین سے جڑنے کا ایک جذباتی سفر بھی تھا۔ شرکاء چیتنا رسال، پرینیتی کالکا، اور گنیشا بجاہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کی جڑیں بہار میں ہیں۔ آریہ چیلمبرون کے خاندان کا تعلق تمل ناڈو سے ہے، جبکہ دکشیش سائی جورن کے خاندان کا تعلق بہار اور تمل ناڈو دونوں سے ہے۔

ماریشس کے ان ایتھلیٹس کے لیے، ہندوستان کا سفر کرنے کا مطلب ایک ایسے ملک تک پہنچنا تھا جس کے بارے میں انھوں نے صرف خاندانی کہانیوں کے ذریعے سنا تھا۔ 19 سالہ چیتنا رسال نے ایس اے آئی میڈیا کو بتایا کہ جب کہ وہ جانتی تھی کہ ان کے آباو¿ اجداد بہار سے ہیں، لیکن انہیں اپنے خاندان کے آبائی گاو¿ں یا علاقے کے بارے میں واضح معلومات نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آنے سے اس کی جڑوں کو سمجھنے کا ایک نیا تجسس پیدا ہوا ہے۔

اس نے کہا، اب جبکہ میں ہندوستان کا دورہ کر چکی ہوں، میں مستقبل میں اپنے خاندان کے ورثے کے بارے میں مزید جاننا چاہتی ہوں۔ میں یہاں واپس آنا، بہار جانا، اور اپنے خاندان کے ساتھ اپنی جڑوں کو سمجھنا چاہتی ہوں۔ 13 سالہ گنیشا بجاہ نے بھی ایسا ہی تجربہ شیئر کیا۔ ان کے مطابق، ہندوستان بچپن میں ان کے خاندان کی تاریخ کا صرف ایک حصہ تھا، لیکن یہاں آنے کے بعد، یہ تعلق حقیقی محسوس ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande