
ادھو ٹھاکرے پر اعتماد ختم ہونے کے باعث سنجے راؤت نے شرد پوار کی قیادت کی وکالت کی : نوناتھ بنممبئی، 11 جون (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی چیف ترجمان نوناتھ بان نے دعویٰ کیا ہے کہ آج تک ادھو ٹھاکرے کو مہاوکاس اگھاڑی کا قائد اور بین الاقوامی سطح کا رہنما قرار دینے والے سنجے راؤت کا اب خود ادھو ٹھاکرے پر بھی اعتماد باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راؤت اب ادھو ٹھاکرے کا نام ایک طرف رکھتے ہوئے شرد پوار سے اپوزیشن کی قیادت سنبھالنے کی بات کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود ادھو ٹھاکرے کی قیادت کو کمزور سمجھتے ہیں اور انڈیا اتحاد میں اس کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ آدتیہ ٹھاکرے کو سنجے راؤت کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوناتھ بان نے کہا کہ اپوزیشن نے 2014، 2019 اور 2024 میں متحد ہونے کی کوشش کی، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو ملک کے عوام نے قبول کر لیا ہے، اس لیے ادھو ٹھاکرے، شرد پوار، راہل گاندھی، ممتا بنرجی، اروند کیجریوال یا دیگر تمام اپوزیشن رہنما متحد بھی ہو جائیں تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ ’’ایک اکیلا سب پر بھاری‘‘ ہے۔نوناتھ بان نے کہا کہ سنجے راؤت کو کسی کو ’’گھاشیرام کوتوال‘‘ قرار دینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ وہ خود مہابھارت کے شکونی ماموں کی مانند ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جس طرح شکونی نے غلط مشوروں کے ذریعے دھرت راشٹر کی سلطنت کو تباہی کی طرف دھکیلا تھا، اسی طرح سنجے راؤت نے بھی ادھو ٹھاکرے کی سیاسی طاقت کو کمزور کیا اور ان کی جماعت کو زوال کی طرف پہنچا دیا۔ ان کے مطابق آدتیہ ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ بنانے کے خواب دیکھتے دیکھتے ادھو ٹھاکرے کی پوری سیاسی جماعت کو نقصان پہنچا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی انتخابات میں ادھو ٹھاکرے، شرد پوار اور کانگریس کو جس شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس کے ذمہ دار صرف سنجے راؤت ہیں۔ نوناتھ بان نے انہیں ’’سازشی اور چالباز شکونی ماموں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاسی حکمت عملی نے اپوزیشن کو نقصان پہنچایا۔مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال کے حوالے سے نوناتھ بان نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سی بی آئی اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کے غلط استعمال کی تاریخ دیکھی جائے تو کانگریس سرفہرست نظر آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں نریندر مودی سے، جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، بارہ بارہ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی، جبکہ امت شاہ کو بھی جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا تھا۔نوناتھ بان نے کہا کہ اس کے باوجود نریندر مودی اور امت شاہ نے بی جے پی کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ جماعت کو مزید مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ کے دورِ حکومت میں اور راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے جس طرح ایجنسیوں کا استعمال کیا، وہ پورے ملک نے دیکھا ہے، اس لیے سنجے راؤت کو ای ڈی اور سی بی آئی جیسے اداروں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ہندوستھان سماچار --------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے