

مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا انتخابی تنازعہ شدید ہوا، سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی، کانگریس نے نتائج کے اعلان پر سوالات اٹھائے
بھوپال، 11 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد ہونے کے بعد سیاسی اور قانونی تنازعہ مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ نے کانگریس کی عرضی پر سماعت جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے، تو دوسری طرف کانگریس نے انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے نتائج کا اعلان کرنے میں جلد بازی کا الزام لگایا ہے۔ معاملے کو لے کر آج (جمعرات کو) پارٹی کے ارکانِ اسمبلی صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی تیاری میں ہیں، جبکہ یوتھ کانگریس نے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔
کانگریس نے میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ یہ عرضی بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات 1.48 بجے ڈیجیٹل ذریعے سے داخل کی گئی تھی۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے غیر قانونی، من مانے اور جانبدارانہ طریقے سے نامزدگی مسترد کی ہے۔ کانگریس نے عدالت سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، اعلیٰ ترین عدالت نے معاملے کی سماعت جمعہ تک کے لیے ٹال دی ہے۔ اس کے بعد دہلی میں واقع کانگریس ہیڈ کوارٹر میں سینئر رہنماوں کی میٹنگ چل رہی ہے، جہاں آگے کی حکمتِ عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی ہونے کے بعد حزبِ اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھائے۔ جمعرات کو بھوپال میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اس معاملے میں مداخلت کرنے اور فیصلہ لینے کا خصوصی اختیار تھا، لیکن اس نے کوئی فیصلہ نہیں لیا، جس کی وجہ سے کانگریس کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ سنگھار نے الزام لگایا کہ ہریانہ، گجرات اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں الیکشن کمیشن نے یکساں حالات میں مداخلت کی تھی، لیکن مدھیہ پردیش کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ’’ربر اسٹیمپ‘‘ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے کل کا وقت دیا ہے۔ ہمیں انصاف ملنے کی امید ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ انصاف میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ اگر فیصلہ آج ہو جاتا تو بہتر ہوتا، کیونکہ آج ہی نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے۔‘‘
کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر پی سی شرما جمعرات کو اسمبلی پہنچے اور راجیہ سبھا انتخابات کے ریٹرننگ آفیسر اروند شرما سے ملاقات کر کے اپنا اعتراض درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ نامزدگی واپس لینے کی آخری وقت کی حد جمعرات کی دوپہر تین بجے تک مقرر ہے، اس لیے اس سے پہلے کسی بھی امیدوار کو بلامقابلہ منتخب قرار دینا یا نتائج کا اعلان کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ پی سی شرما نے الزام لگایا کہ اسمبلی سکریٹریٹ کے کچھ افسران اور ملازمین صبح سے ہی انتخابی سرٹیفکیٹ تیار کرنے کے عمل میں مصروف ہو گئے تھے، جس سے یہ پیغام گیا کہ بی جے پی کے امیدواروں کو پہلے سے ہی بلامقابلہ منتخب مان لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، تب انتخابی عمل میں جلد بازی نہیں دکھائی جانی چاہیے۔
معاملے کو قومی سطح پر اٹھانے کے لیے کانگریس نے اپنے ارکانِ اسمبلی کی جمعرات کو صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کا پروگرام بھی طے کیا ہے۔ پارٹی رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہ پورے واقعے سے صدرِ جمہوریہ کو واقف کرائیں گے اور جمہوری عمل کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کریں گے۔
میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے کے احتجاج میں یوتھ کانگریس جمعرات کی شام ’’جمہوریت کے قاتلوں کی ارتھی یاترا‘‘ نکالے گی۔ یہ یاترا پرانے جیل کے علاقے سے شروع ہو کر الیکشن کمیشن کے دفتر تک جائے گی۔ تنظیم نے اسے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے علامتی احتجاج قرار دیا ہے۔
دراصل، راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی 9 جون کو جانچ (اسکروٹنی) کے دوران ریٹرننگ آفیسر اروند شرما نے خارج کر دیا تھا۔ بی جے پی امیدوار مہیش کیوٹ اور پارٹی رہنماوں نے نامزدگی پر اعتراض درج کرایا تھا۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ میناکشی نٹراجن نے اپنے انتخابی حلف نامے (فارم۔26) میں تلنگانہ کی ایک عدالت میں زیرِ التوا کیس کی معلومات چھپائی ہیں۔ اسی بنیاد پر نامزدگی مسترد کی گئی۔ کانگریس اس کارروائی کو سیاسی اور اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے عدالتی مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اب سب کی نظریں جمعہ کو ہونے والی سپریم کورٹ کی سماعت پر ٹکی ہیں، جہاں اس تنازعہ پر اہم فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن