یو ایچ ایم ویکیشن کا اسٹاک مارکیٹ میں کمزور آغاز
نئی دہلی، 11 جون (ہ س)۔ بی ٹو بی ٹریول سروسز پیش کرنے والی کمپنی یو ایچ ایم ویکیشنز کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں کمزوری کے ساتھ داخل ہو کر اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 166 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے
شیئر


نئی دہلی، 11 جون (ہ س)۔ بی ٹو بی ٹریول سروسز پیش کرنے والی کمپنی یو ایچ ایم ویکیشنز کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں کمزوری کے ساتھ داخل ہو کر اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 166 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 20 فیصد کی رعایت کے ساتھ 132.8 روپے کی سطح پر درج ہوئی۔ کمزور لسٹنگ کے بعد فروخت شروع ہوجانے کی وجہ سےحصص تھوڑے ہی عرصے میں 126.20 روپے کی نچلی سرکٹ کی سطح پر گر گئے ۔ اس طرح، تجارت کے پہلے دن، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو 39.8 روپے فی حصص یعنی 23.98 فیصد کا نقصان ہوا۔

یو ایچ ایم ویکیشنز کا 36 کروڑ روپے کا آئی پی او 4 اور 8 جون کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے اوسط ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2.36 گنا سبسکرپشن حاصل ہوئی۔ ان میں سے اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کو 100 فیصد سبسکرائب کیا گیا۔ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 86 فیصد سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 3.86 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ 29 کروڑ روپے کے نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پیشکش برائے فروخت ونڈو کے ذریعے 4.2 لاکھ حصص فروخت کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او میں حصص کے تازہ ایشو کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم کو مارکیٹنگ اور پروموشن، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

کمپنی کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کیا گیا ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں کئے گئے دعوی کے مطابق، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں، کمپنی کا خالص منافع 11 لاکھ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 5.27 کروڑ روپے ہو گیا۔ اگلے مالی سال 2024تا2025 میں کمپنی کا منافع بڑھ کر 7.18 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران، گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں، اپریل 2025 سے 28 فروری 2026 تک، کمپنی کا خالص منافع 8.05 کروڑ روپے تھا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ اسے مالی سال 2022تا2023 میں 20 کروڑ 49 لاکھ روپے کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 30 کروڑ 60 لاکھ روپے اور مالی سال 2024تا2025میں 40 کروڑ 20 لاکھ روپے ہو گئی۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں، اپریل 2025 سے 28 فروری 2026 تک، کمپنی کو 45 کروڑ 29 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ 2022تا2023 مالی سال کے اختتام پر کمپنی پر کوئی قرض نہیں تھا۔ کمپنی نے مالی سال 2023تا2024 میں 38 لاکھ روپے اور مالی سال 2024تا2025 میں 48 لاکھ روپے کا قرض لیا۔ اگر ہم گزشتہ مالی سال 2025تا2026 کی بات کریں تو اپریل 2025 سے 28 فروری 2026 تک، اس دوران کمپنی پر قرض کا بوجھ چھ لاکھ روپے کی سطح پر تھا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے ذخائر اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں یہ 87 لاکھ روپے کی سطح پر تھا، 2023تا2024 میں بڑھ کر12.62 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 2024تا2025 میںکمپنی کے ذخائر اور سرپلس 19.86 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا ۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں، اپریل 2025 سے 28 فروری 2026 تک، یہ 25.15 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ، ٹیکسز، ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2022تا2023 میں 18 لاکھ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر5.87 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 2024تا2025 میں 8.26 کروڑ روپے رہ گیا۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں اپریل 2025 سے 28 فروری 2026 تک یہ 9.19 کروڑ روپے کی سطح پر رہا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande