
۔مردم شماری صرف ہیڈ کاونٹ (فرد کی گنتی) نہیں ، یہ جامع اور شمولیتی ترقی کی بنیاد ہے: وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ
لکھنؤ، 7 مئی (ہ س)۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو ریاست میں 2027 کی مردم شماری کے پہلے مرحلے کا باضابطہ آغاز کیا۔ 5 کالیداس مارگ پر واقع وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پروگرام میں انہوں نے ”ہماری جن گڑنا، ہمارا وکاس“(ہماری مردم شماری، ہماری ترقی) کے نعرے کے ساتھ گھروں کی فہرست سازی اور گنتی کے عمل کا آغاز کیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ مردم شماری محض آبادی کی گنتی نہیں ہے بلکہ جامع، شمولیتی اور منصوبہ بند ترقی کی مضبوط بنیاد ہے۔ آج ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کا دور ہے اور مردم شماری کے درست اعداد و شمار بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور مختلف عوامی فلاحی اسکیموں کے موثر نفاذ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری اس بات کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے کہ معاشرے کا آخری فرد بھی ترقی کے عمل میں یکساں طور پر حصہ لے سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں ملک میں پہلی بار ڈیجیٹل مردم شماری کرائی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں گھروں کی فہرست سازی اور گھروں کی گنتی مکمل کی جائے گی۔ عوام کو 7 مئی سے 21 مئی 2026 تک اپنی گنتی آپ کرنے کا متبادل فراہم کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے شہری اپنی معلومات خود ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر درج کر سکیں گے۔ اس کے بعد مردم شماری کا عملہ فیلڈ ورک کے تحت گھر گھر جا کر گنتی کا کام مکمل کرے گا۔ دوسرے مرحلے میں ہر فرد کی گنتی کی جائے گی۔ اس بار مردم شماری میں ذات پات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پہلی بار جنگلاتی گاوں کو مردم شماری کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کے دور میںریئل ٹائم ڈیٹا بہت ضروری ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال نے مردم شماری کے عمل کو مزید شفاف، موثر اور تیز تر بنا دیا ہے۔ گاؤں اور وارڈ کی سطح تک کام کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے مردم شماری کا ایک وقف پورٹل تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی موجودہ تخمینہ شدہ آبادی تقریباً 25کروڑ 70لاکھ ہے۔ مردم شماری 18 ڈویژنوں، 75 اضلاع، 350 تحصیلوں، 17 میونسپل کارپوریشن، 745 دیگر شہری اداروں، 21 کنٹونمنٹ بورڈز، 57,694 گرام پنچایتوں اور تقریباً 14,000 ریونیو گاوں میں کرائی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بڑے کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے لیے تقریباً 5.47 لاکھ اہلکاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے، جن میں 4.50 لاکھ شمار کنندگان، 85,000 سپروائزر، اور 12,000 ریاستی اور ضلعی سطح کے افسران شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً 5.35 لاکھ اہلکاروں کو دونوں مراحل کے لیے تربیت دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ریاست کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ مردم شماری کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ صرف ایک مقام پر اپنی گنتی کرائیں اور درست اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کریں، تاکہ درست اور موثر ترقیاتی منصوبے مرتب کیے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے مردم شماری کے کام میں شامل تمام افسران، ملازمین اور شہریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد