
بھوپال، 07 مئی (ہ س)۔
کسانوں کے مسائل اور گیہوں کی خریداری کے انتظامات کو لے کر بدھ کو کانگریس نے مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں ’چکا جام‘ تحریک چلائی۔ گوالیار، مرینا، شاجاپور، اندور اور دھار سمیت کئی اہم ہائی ویز پر کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا، جس سے نقل و حمل متاثر ہوئی اور ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں۔ تحریک کے دوران کئی مقامات پر پولیس اور کارکنوں کے درمیان تلخ نوک جھونک اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
گوالیار میں نیشنل ہائی وے-44 پر بغیر اجازت احتجاج کرنے کی وجہ سے پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے لیڈروں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ وہیں، مرینا میں تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے جام کے بعد مظاہرین کو گرفتار کر کے گوالیار بھیج دیا گیا۔ بھنڈ میں تحریک کے دوران ایک کانگریس لیڈر اور پولیس کانسٹیبل کے درمیان اس وقت تنازعہ ہو گیا جب پولیس ایک بزرگ کی گاڑی نکلوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
شاجاپور کے روزواس ٹول پلازہ پر ہونے والے بڑے احتجاج میں صوبائی کانگریس صدر جیتو پٹواری ٹریکٹر پر سوار ہو کر پہنچے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کی آواز دبا رہی ہے اور گیہوں کی خریداری کا ’سلاٹ‘ اور ’ٹوکن سسٹم‘ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ پٹواری نے متنبہ کیا کہ اگر کسانوں کی نظر اندازی بند نہ ہوئی تو آنے والے وقت میں اس سے بھی بڑی تحریک چلائی جائے گی۔ اسی دوران پولیس کی جانب سے ٹریکٹر ہٹانے کو لے کر کارکنوں کے ساتھ کافی دیر تک دھکا مکی اور تکرار بھی ہوئی۔
دوسری طرف، اقتدار کے حامی فریق نے اس تحریک کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے احتجاج کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بورڈ امتحانات چل رہے ہیں اور ایسے میں راستہ روکنا طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ وزیر خوراک گووند سنگھ راجپوت اور بی جے پی ترجمانوں نے واضح کیا کہ اب تک 50 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ گیہوں خریدا جا چکا ہے اور تقریباً 8 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے رجسٹریشن کی تاریخ بڑھا کر 23 مئی کر دی ہے اور کانگریس محض غلط فہمی پھیلا کر افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوپہر کے بعد حزبِ اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار اور دیگر سینئر لیڈروں کی جانب سے دھار اور شیوپوری جیسے اضلاع میں چکا جام ختم کرنے کے اعلان کے بعد صورتحال معمول پر آئی۔ انتظامیہ نے سیکورٹی کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں بھاری پولیس نفری تعینات کی تھی اور مسافروں کی سہولت کے لیے کئی راستے تبدیل (ڈائیورٹ) کیے گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن