
پونے، 31 مئی (ہ س)۔ پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پہلے ہی مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ایس ٹی) کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ماحول دوست الیکٹرک بسیں (ای بس) ادارے کے لیے بڑا معاشی سہارا ثابت ہو رہی ہیں۔ پونے ایس ٹی ڈویژن میں چلنے والی 105 الیکٹرک بسوں کی بدولت روزانہ تقریباً ساڑھے دس ہزار سے گیارہ ہزار لیٹر ڈیزل کی بچت ہو رہی ہے۔ یہ معلومات ڈویژنل کنٹرولر ارون سیا نے دی ہیں۔الیکٹرک بسوں کے استعمال سے کارپوریشن کے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ساتھ ہی ماحولیات کے تحفظ میں بھی مدد مل رہی ہے۔ اسی لیے ایس ٹی کے بیڑے میں شامل ہونے والی نئی بسوں میں ای بسوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ پونے ایس ٹی ڈویژن کے تحت مجموعی طور پر 14 ڈپو اور بس اسٹیشن شامل ہیں، جن میں سوارگیٹ، پونے اسٹیشن، شیواجی نگر اور پمپری-چنچواڑ اہم مراکز ہیں۔ اس ڈویژن میں ایس ٹی کی اپنی اور نجی کنٹریکٹروں سے کرائے پر حاصل کی گئی تقریباً 850 بسیں مختلف روٹس پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔فی الحال پونے ڈویژن سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار سے دو لاکھ مسافر ایس ٹی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ مسافروں کی اس آمد و رفت سے ڈویژن کو ماہانہ تقریباً 62 سے 65 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ گرمیوں کی تعطیلات، تہواروں اور خصوصی مواقع کے دوران مسافروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ آمدنی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کے تناظر میں الیکٹرک بسوں کا بڑھتا استعمال ایس ٹی کی مالی مضبوطی کے لیے نہایت اہم ثابت ہو رہا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ای بسوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا گیا تو اخراجات میں بچت اور آلودگی پر قابو پانے کے دونوں مقاصد کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکے گا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے