
پونے ، 31 مئی (ہ س)۔ ضلع پونے کے تعلقہ داؤنڈ کے کیدگاؤں میں بے نقاب ہونے والے غیر قانونی جنین کی جنس معلوم کرنے کے سنسنی خیز معاملے کی تحقیقات مزید وسیع کر دی گئی ہیں۔ یوت پولیس نے اس کیس میں دو مزید ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جس کے بعد دیہی علاقوں میں اس غیر قانونی سرگرمی کے گہرے نیٹ ورک کی موجودگی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔پولیس کے مطابق اُرولی کانچن کے ڈاکٹر سندرم قدم اور کِکوی (تعلقہ بھور) کے ڈاکٹر مندار مالی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مرکزی ملزم انّاساہیب گیری سے جاری تفتیش کے دوران کئی اہم معلومات سامنے آئیں، جن کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ مزید بڑھایا گیا۔ تحقیقات میں یہ الزام سامنے آیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سونوگرافی مشین کا استعمال کرتے ہوئے جنین کی جنس معلوم کی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ مشین ملزم نریندر ٹھاکرے نے فراہم کی تھی۔ نریندر ٹھاکرے اس وقت عدالتی تحویل میں ہے اور اس سے بھی مسلسل پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک مجموعی طور پر پانچ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔دریں اثنا، ڈاکٹر سندرم قدم اور ڈاکٹر مندار مالی دونوں مفرور ہیں اور یوت پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔ مرکزی ملزم انّاساہیب گیری اور اس کے ساتھی ڈاکٹر اتل جادھو کو عدالت نے دوبارہ دو روزہ پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔ اس پورے معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد اُرولی کانچن اور اطراف کے علاقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقامی شہریوں کی جانب سے ڈاکٹر سندرم قدم کے مالی معاملات، جائیداد اور اثاثوں کی تفصیلی جانچ کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بات کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ آیا جنین کی جنس معلوم کرنے جیسے سنگین اور قانوناً ممنوع جرم کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کیا گیا تھا یا نہیں۔ حکام کے مطابق جنین کی جنس معلوم کرنے کی ممانعت سے متعلق قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے یہ کارروائی انتہائی اہم تصور کی جا رہی ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے