اپریل 2026 میں کار فروخت میں نمایاں اضافہ، مارکیٹ میں سخت مقابلہ
ماروتی سوزوکی بدستور پہلے نمبر پر، ٹاٹا اور مہندرا دوسرے اور تیسرے مقام پر برقرارممبئی ، 03 مئی (ہ س)۔ اپریل 2026 کے اختتام پر بھارت کی کار ساز کمپنیوں نے مالی سال 2027 کی شروعات نہایت مثبت انداز میں کی ہے، جہاں گزشتہ سال کے مقابلے میں بیشتر کمپ
کار


ماروتی سوزوکی بدستور پہلے نمبر پر، ٹاٹا اور مہندرا دوسرے اور تیسرے مقام پر برقرارممبئی ، 03 مئی (ہ س)۔ اپریل 2026 کے اختتام پر بھارت کی کار ساز کمپنیوں نے مالی سال 2027 کی شروعات نہایت مثبت انداز میں کی ہے، جہاں گزشتہ سال کے مقابلے میں بیشتر کمپنیوں نے اپنی فروخت میں نمایاں اضافہ درج کیا ہے۔ ملک کے اندرونی بازار میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے اور مختلف کمپنیوں کے درمیان اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔ اس دوران ماروتی سوزوکی نے اپنی برتری مزید مستحکم کرتے ہوئے پہلا مقام برقرار رکھا ہے، جبکہ ٹاٹا موٹرز اور مہندرا اینڈ مہندرا نے بالترتیب دوسرا اور تیسرا مقام سنبھالے رکھا ہے۔

اسی دوران ہنڈائی موٹر نے بھی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے مہندرا کے ساتھ اپنا فاصلہ کافی حد تک کم کر لیا ہے، جبکہ کیا انڈیا کمپنی نے اپنے مقبول ماڈلز کی بدولت اب تک کی سب سے بہترین ماہانہ فروخت درج کی ہے۔

ماروتی سوزوکی نے اپریل 2026 میں ملک کے اندرونی بازار میں 1 لاکھ 87 ہزار 704 گاڑیوں کی فروخت درج کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ماہانہ فروخت کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ کمپنی نے چھوٹی، درمیانے درجے کی اور اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں کے متوازن پورٹ فولیو کی بدولت اپنے حریفوں پر نمایاں برتری برقرار رکھی ہے۔ کمپنی کے کمپیکٹ اور مڈ سائز سیگمنٹ سے 80 ہزار 659 گاڑیوں کی فروخت ہوئی، جبکہ آلٹو کے 10، ویگن آر اور ایس پریسو جیسی چھوٹی گاڑیوں نے 16 ہزار 66 یونٹس کی فروخت میں حصہ ڈالا۔ اس کے علاوہ نئی برقی گاڑی ای وٹارا ماڈل نے بھی 2 ہزار 6 یونٹس فروخت کیے، جن میں تقریباً 85 فیصد فروخت 61 کلو واٹ آور صلاحیت کی بڑی بیٹری والے ماڈل کی رہی۔

ٹاٹا موٹرز نے اپریل 2026 میں تقریباً 59 ہزار گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ دوسرا مقام برقرار رکھا، جو اپریل 2025 کے 45 ہزار 199 یونٹس کے مقابلے میں 30.5 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کی نیکسون اور پنچ جیسی گاڑیوں کی مسلسل مانگ اس اضافے کی بڑی وجہ رہی ہے۔ خاص طور پر ٹاٹا موٹرز کے برقی گاڑیوں کے شعبے نے بھی نمایاں ترقی کی ہے، جہاں اس شعبے میں سالانہ بنیاد پر 72.1 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے، جس سے ماحول دوست گاڑیوں کے میدان میں کمپنی کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔

مہندرا اینڈ مہندرا نے اپریل 2026 میں 56 ہزار 331 گاڑیوں کی فروخت درج کی، جو اپریل 2025 کے 52 ہزار 330 یونٹس کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے، تاہم مارچ 2026 کے مقابلے میں اس میں 6.5 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے باوجود کمپنی نے تیسرا مقام برقرار رکھا ہے اور ٹاٹا موٹرز کے ساتھ اس کی مسابقت جاری ہے۔ مہندرا کی فروخت میں اس کی اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں کا بڑا حصہ رہا ہے، جن میں اسکورپیو، تھار اور ایکس یو وی سیریز کے ماڈلز کو صارفین کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

ہنڈائی موٹر نے اپریل 2026 میں 51 ہزار 902 گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ چوتھا مقام حاصل کیا۔ کمپنی کے کریٹا، وینیو اور ایکسٹر ماڈلز نے فروخت میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ گرینڈ آئی 10 نیوس اور آئی 20 جیسی ہچ بیک گاڑیوں کی مانگ بھی برقرار رہی۔ خاص طور پر وینیو ماڈل نے 12 ہزار 420 یونٹس کی فروخت درج کرتے ہوئے کمپنی کی تاریخ کی سب سے بڑی ماہانہ فروخت کا ریکارڈ قائم کیا، جس کا ایک اہم سبب اس ماڈل کو حاصل ہونے والی پانچ ستارہ بھارت این سی اے پی سیفٹی ریٹنگ بھی ہے۔

ٹويوٹا کرلوسکر موٹر نے اپریل 2026 میں 30 ہزار 159 گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ پانچواں مقام حاصل کیا، جو اپریل 2025 کے 24 ہزار 833 یونٹس کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کی انووا ہائیکراس، اربن کروزر ہائیرائیڈر اور فارچیونر جیسی گاڑیوں کی مسلسل مانگ نے اس کی فروخت میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انووا ہائیکراس نے مجموعی طور پر 2 لاکھ یونٹس فروخت کا سنگ میل بھی عبور کیا، جو کمپنی کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ کمپنی نے بھارت کے لیے اپنی پہلی برقی گاڑی اربن کروزر ای بیلا ماڈل بھی پیش کیا ہے، جس کی قیمت جلد اعلان کیے جانے کی توقع ہے۔

کیا انڈیا نے اپریل 2026 میں 27 ہزار 286 گاڑیوں کی فروخت درج کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی بہترین ماہانہ کارکردگی پیش کی ہے۔ سیلٹوس اور سونیٹ ماڈلز نے 10 ہزار سے زائد یونٹس کی فروخت کے ساتھ کمپنی کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ کیرنس کلیوس ماڈل نے بھی مجموعی فروخت میں مسلسل حصہ ڈالا ہے۔

مجموعی طور پر اپریل 2026 میں بھارتی آٹو صنعت نے مضبوط شروعات کی ہے اور بڑھتی ہوئی صارفین کی مانگ، نئے ماڈلز کی دستیابی اور برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث مستقبل میں بھی اس ترقی کے جاری رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande