
علی گڑھ, 29 مئی (ہ س)۔
جدید اردو غزل کے ممتاز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کے سانحہ ارتحال پر حرف زار لٹری سوسائٹی، علی گڑھ کے زیرِ اہتمام خیابانِ ادب میں ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ نشست کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم (سابق صدر شعبہ اردو، اے ایم یو) نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر مجیب شہزر نے انجام دی۔ پروگرام کا آغاز مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا اور قرآن خوانی سے ہوا۔
نشست میں شریک ادبی شخصیات نے ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے فنی اور فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے اردو غزل کو روایتی بوجھل پن سے نکال کر عام فہم، شگفتہ اور دلکش اسلوب عطا کیا، جس نے انہیں عوام و خواص میں یکساں مقبول بنایا۔
ڈاکٹر اویس جمال شمسی نے اپنے بیان میں کہا کہ بشیر بدر نے اردو غزل کو نیا مزاج اور نئی زبان دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا سہلِ ممتنع انداز آج بھی اپنی مثال آپ ہے اور موجودہ دور میں اس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔
ڈاکٹر خاور خان سرحدی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بشیر بدر کے انتقال سے اردو ادب ایک بڑے خلا سے دوچار ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ الفاظ کو نئی معنویت اور جمالیاتی حسن دینے والے منفرد شاعر تھے۔
ڈاکٹر وصی بیگ بلال نے کہا کہ بشیر بدر نے غزل کو سماجی شعور اور کائناتی سچائیوں سے جوڑ کر اسے ایک نئی جہت دی۔ وہ مشاعروں کی جان اور ادبی محفلوں کی رونق تھے، ان کی شخصیت اور شاعری دونوں متاثر کن تھیں۔
عمران خان یوسف زئی نے کہا کہ بشیر بدر نئی نسل کے شعرا کے لیے ایک استاد اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا کلام سادگی اور گہرائی کا حسین امتزاج ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
نشست کے اختتام پر مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر حرف زار لٹری سوسائٹی نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات پر آئندہ سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ