
پونے، 29 مئی (ہ س)۔ مہاراشٹر میں ضلع پونے کے ہڈپسر اور فوگے واڑی علاقوں میں مبینہ طورپرزہریلی دیسی شراب پینے سے آٹھ افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ کئی دیگر افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ تمام متاثرین مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے جمعہ کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی پونے کے پولیس کمشنر امیتیش کمار سے بات کی اور اس واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیا۔ انہوں نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ پولیس اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کر چکی ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ ریاستی محکمہ آبکاری کے کمشنر اتل کانڑے نے بتایا کہ اس سانحے میں پانڈورنگ فوگے، وجئے پرکاش راٹھوڑ، راجیندر پرکاش راٹھوڑ، راجو راجپوت، اکبر پٹھان، بابا شیخ، آنند دیسائی اور آنند نکالجے کی موت ہوئی ہے۔ جبکہ سبھاش ڈیگی کر اور اکشے اوسرمل سمیت دیگر متاثرین کا علاج جاری ہے۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں غیر قانونی شراب فروش ورکھا سنگھ اور تقسیم کار یوگیش وانکھیڑے بھی شامل ہیں۔ تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ یوگیش وانکھیڑے نے اس غیر قانونی شراب کی تیاری میں استعمال ہونے والی صنعتی اسپرٹ فراہم کی تھی۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ دیسی شراب پڑوسی علاقے پمپری۔چنچواڑ کے فوگے واڑی میں کیمیکل سے آلودہ اسپرٹ استعمال کرکے تیار کی گئی تھی۔ بعد ازاں اسے ہڈپسر اور آس پاس کے علاقوں میں فروخت اور تقسیم کیا گیا۔متاثرین نے یہ شراب پینے کے بعد شدید پیٹ درد اور قے کی شکایت کی تھی، جس کے بعد انہیں اسپتالوں میں داخل کرایا گیا، لیکن علاج کے دوران کئی افراد دم توڑ گئے۔ پولیس نے تمام متوفیوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی ہیں۔ حکام کے مطابق فارنسک اور طبی رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید قانونی اور تفتیشی کارروائی کی جائے ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے