
سی ڈی آر اور سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے پر آج عدالت میں سماعت
بھوپال، 26 مئی (ہ س)۔ اداکارہ اور ماڈل ٹویشا شرما کی مشتبہ موت کے معاملے میں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی ٹیم نے بھوپال پہنچتے ہی ایکشن لینا شروع کر دیا ہے۔ پیر کی رات سی بی آئی نے کٹارا ہلز تھانے میں درج اصل معاملے کو اپنی ڈائری میں ری رجسٹر کرتے ہوئے متوفیہ کے شوہر سمرتھ سنگھ اور ساس ریٹائرڈ جج گری بالا سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایف آئی آر میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ سسرال والوں کی طرف سے جہیز میں اضافی رقم کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
سی بی آئی نے مقامی پولیس کی ابتدائی جانچ رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے معاملے کو آگے بڑھایا ہے۔ پولیس جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سسرال والوں کی طرف سے ٹویشا اور ان کے خاندان سے 20 لاکھ روپے کا اضافی مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ اسی مالی لین دین اور ہراسانی کو بنیاد مانتے ہوئے سی بی آئی نے ’جہیز کے سبب موت‘ کی دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے۔
پیر کی دیر شام سی بی آئی کی خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی) ملزم سمرتھ سنگھ کی باغ مغالیہ ایکسٹینشن میں واقع رہائش گاہ پر پہنچی۔ وہاں ٹیم نے سمرتھ اور گری بالا سنگھ سے قریب ڈھائی گھنٹے تک سخت پوچھ گچھ کی اور جائے وقوع کی مادی تصدیق یعنی اسپاٹ ویریفکیشن کرائی۔ آج منگل کی صبح بھی سی بی آئی کی ٹیم دوبارہ گری بالا سنگھ کی رہائش گاہ پر جانچ کے لیے پہنچی۔
جانچ میں سامنے آیا کہ ٹویشا شرما نے 12 مئی کی رات مبینہ طور پر پھانسی لگا کر خودکشی کی تھی، لیکن ایمس اسپتال کی طرف سے پولیس کو اس کی تحریری اطلاع اگلے دن 13 مئی کی صبح 5.00 بجے دی گئی۔ سی بی آئی اب اس بات کی سختی سے تفتیش کرے گی کہ اس حساس معاملے کی اطلاع پولیس تک اتنی تاخیر سے کیوں پہنچی؟ اس کے لیے مرکزی ایجنسی اس ڈاکٹر سے بھی پوچھ گچھ کرے گی جس نے سب سے پہلے اس معاملے کو نوٹ کیا تھا۔
ٹویشا کے مائیکے والوں کا شروع سے الزام ہے کہ سمرتھ سنگھ اور ان کی ماں گری بالا سنگھ قانونی داو پیچ کے ماہر ہیں۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسپتال میں موت کی تصدیق ہونے کے بعد سمرتھ واپس گھر لوٹا تھا اور پولیس کو اطلاع دینے میں کی گئی اس اضافی تاخیر کا استعمال کرائم سین (جائے واردات) سے چھیڑ چھاڑ اور ثبوتوں کو مٹانے کے لیے کیا گیا۔
پیر کے روز پولیس رپورٹ نہیں آنے کی وجہ سے ضلع عدالت نے سماعت ملتوی کر دی تھی، لیکن آج منگل کو پولیس کے ذریعے عدالت میں رپورٹ پیش کیے جانے کا پورا امکان ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ایک طرف ٹویشا کے اہل خانہ کے وکیل انکور پانڈے نے تمام متعلقہ افراد کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کو محفوظ رکھنے کے لیے عدالت میں درخواست دی ہے، تو دوسری طرف ملزم ساس گری بالا سنگھ کی جانب سے بھی گھر کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے کی ایپلیکیشن لگائی گئی ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد عدالت آج ان پر ضروری ہدایات دے سکتا ہے۔
معاملے میں جس جمناسٹک الاسٹک بیلٹ سے پھانسی لگانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اسے جانچ کے لیے نہ سونپنے کا تنازعہ چل رہا تھا، اس پر بھوپال کے ڈی سی پی وکاس کمار شہوال نے صورتحال واضح کی ہے۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ اس بیلٹ کو پولیس نے 7 دن پہلے ہی فارنسک جانچ کے لیے ساگر میں واقع اسٹیٹ فارنسک سائنس لیب (ایف ایس ایل) بھیج دیا تھا، تاکہ سائنسی شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن