مدھیہ پردیش کے جبل پور برگی کروز حادثے کی عدالتی جانچ شروع، کمیشن نے تکنیکی اور قانونی پہلووں پر تشویش ظاہر کی
مدھیہ پردیش کے جبل پور برگی کروز حادثے کی عدالتی جانچ شروع، کمیشن نے تکنیکی اور قانونی پہلووں پر تشویش ظاہر کی جبل پور، 26 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور میں نرمدا ندی پر بنے برگی ڈیم میں 30 اپریل کو ہوئے کروز حادثے کی عدالتی جانچ منگل کے روز ب
جبل پور برگی ڈیم حادثے کے بعد کروز کو باہر نکالتے ہوئے فائل تصویر


مدھیہ پردیش کے جبل پور برگی کروز حادثے کی عدالتی جانچ شروع، کمیشن نے تکنیکی اور قانونی پہلووں پر تشویش ظاہر کی

جبل پور، 26 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور میں نرمدا ندی پر بنے برگی ڈیم میں 30 اپریل کو ہوئے کروز حادثے کی عدالتی جانچ منگل کے روز باقاعدہ طور پر شروع ہو گئی ہے۔ جانچ کمیشن نے معاملے میں حادثے سے متعلق تکنیکی اور قانونی پہلووں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس حادثے میں 13 سیاحوں کی موت ہوئی تھی۔ جانچ کمیشن کے صدر ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس سنجے دویدی کے سامنے منگل کو کلکٹریٹ کے کمرہ نمبر 43 میں معاملے کی سماعت ہوئی۔

اس دوران ناگرک اپبھوکتا مارگ درشک منچ نے حادثے سے متعلق کئی اہم قانونی اور تکنیکی نکات کمیشن کے سامنے پیش کئے۔ منچ کے صدر ڈاکٹر پی جی نازپانڈے اور ایڈوکیٹ وید پرکاش ادھولیا نے کمیشن کے سامنے دائر عرضی میں کہا کہ انڈین ویسلز ایکٹ 2021 کے تحت ایسا کوئی التزام نہیں ہے، جو جانچ کا عمل پورا ہونے سے پہلے کسی حادثہ کا شکار کروز کو تباہ کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کو بھی کسی حادثے کا شکار ہوئے کروز کو جانچ سے پہلے تباہ کرنے کا قانونی حق نہیں ہے۔

کمیشن نے ان نکات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ ناگرک اپبھوکتا مارگ درشک منچ کی طرف سے اٹھائے گئے تمام قانونی پہلووں کو جانچ میں اہم طور پر شامل کیا جائے گا۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ اگلی سماعت میں منچ کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔

عرضی میں کروز کے آپریشن سے متعلق تکنیکی اور ماحولیاتی بے ضابطگیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ منچ کی جانب سے بتایا گیا کہ نیشنل گرین ٹریبونل نے 12 ستمبر 2023 کے حکم میں واضح ہدایات دی تھیں کہ آبی ذخائر میں چلنے والے کروز میں صرف فور اسٹروک انجن کا استعمال کیا جائے۔ اس کے باوجود حادثے کا شکار کروز میں محض 100 ایچ پی کا کمزور انجن لگایا گیا تھا اور حادثے کے دوران اس کا دوسرا انجن بھی پوری طرح فیل ہو گیا تھا۔

عرضی میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کروز آپریٹرز کے پاس ماحولیاتی معیار سے متعلق کوئی جائز سرٹیفکیٹ نہیں تھا، جبکہ این جی ٹی کے قوانین کے مطابق آبی ذخائر میں چلنے والی گاڑیوں کے لیے ماحولیاتی اجازت اور معیارات پر عمل کرنا لازمی ہے۔ سماعت کے دوران سب سے بڑا سوال یہ اٹھا کہ جب حادثے کا شکار کروز کو پہلے ہی پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے، تو اس کی تکنیکی فٹنس کی جانچ اب کس بنیاد پر کی جائے گی۔

این جی ٹی کے حکم کے پیرا 132 کا حوالہ دیتے ہوئے منچ نے کہا کہ کسی بھی آبی گاڑی کی فٹنس اس کے آپریشن کے عمل میں پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ ایسے میں کروز کے تباہ ہونے کے بعد اس کی تکنیکی اور مادی صورتحال کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ جانچ کمیشن نے اس پورے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اپنے دعووں اور واقعے سے متعلق تمام ضروری دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کریں، تاکہ معاملے کی گہرائی سے جانچ کی جا سکے۔

قابلِ ذکر ہے کہ جبل پور میں نرمدا ندی پر واقع برگی ڈیم میں 30 اپریل کی شام تیز آندھی اور طوفان کے سبب سیاحوں سے بھرا ایم پی ٹورزم کا کروز ڈوب گیا تھا۔ اس حادثے میں 13 سیاحوں کی موت ہو گئی تھی، جبکہ 28 لوگوں کو بچایا گیا تھا۔ حادثے کے بعد مدھیہ پردیش حکومت نے معاملے کی عدالتی جانچ کے احکامات جاری کیے تھے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس سنجے دویدی کی صدارت میں ایک رکنی جانچ کمیشن تشکیل دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande