
ہمارے عمل سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے،قربانی کے ایام میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں : مولانا ارشد مدنینئی دہلی ، 26مئی(ہ س)۔
عید الاضحی کے موقع پر مسلمانان ہند کے نام اپنے ایک خصوصی پیغام میں جمعی? علمائ ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ قربانی کے ایام کے دوران محلوں اور علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے پر خاص توجہ دی جانی چاہیے اور یہ کہ سوشل میڈیا پر قربانی کے جانوروں کی تصویریں نہیں شیئر کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے۔ یہ ا یک ایسا مذہبی فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر صاحبِ حیثیت مسلمان پر واجب ہے۔ چنانچہ جس شخص پر قربانی واجب ہے اسے ہر حال میں اس فریضے کو ادا کرنا چاہیے۔ موجود حالات کے پیش نظر مولانا مدنی نے یہ مشورہ بھی دیا کہ مسلمان اپنے طور پر محتاط رویہ اپناتے ہوئے سوشل میڈیا وغیرہ پر قربانی کے جانوروں کی تصویریں وغیرہ شیئر کرنے سے گریز کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ قربانی کرتے وقت حکومتی ہدایات کی پاسداری کی جانی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ مسلمان ممنوعہ جانوروں کی قربانی نہ کریں اور چونکہ مذہب میں کالے جانور کی قربانی جائز ہے اس لیے کسی بھی فتنے اور تنازع سے بچنے کے لیے ا سی کی قربانی پر اکتفا کیا جانا بہتر ہے۔ انھوں نے آگے کہا کہ اگر کسی جگہ شرپسند عناصر کالے جانور کی قربانی میں بھی رخنہ ڈالتے ہیں تو علاقے کے بااثر اور سمجھدار لوگوں کے ذریعے مقامی انتظامیہ سے رجوع کر کے قربانی کی جائے۔ اگر پھر بھی خدانخواستہ کوئی راستہ نہیں نکلتا تو جس قریبی آبادی میں کوئی دشواری نہ ہو وہاں قربانی کرادی جائے۔ البتہ جہاں قربانی ہوتی آئی ہے اور فی الحال کوئی دشواری ہے وہاں کم از کم بکرے کی قربانی ضرور کی جائے اور انتظامیہ کے دفتر میں اس کا اندراج بھی کرا دیاجائے۔ تاکہ مستقبل میں کوئی دشواری نہ آئے۔مسلم محلوں اور علاقوں میں عید الاضحی کے موقع پر صفائی ستھرائی کو مثالی بنانے پر زور دیتے ہوئے انھوں نے مسلمانوں ، جمعیة علماءہند ، رضاکاراو رمساجد کے ائمہ پر زور دیا کہ وہ قربانی کے بعد فضلات کو درست طریقے سے ٹھکانے کے لگانے کے لیے نہ صرف مساجد میں اس کا اعلان کریں بلکہ عملی طور پر اس مہم میں حصہ لے کر رضاکاروں کی ایک ٹیم تشکیل دیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہر محلے اور ہر بستی میں رضاکاروں کی ایسی ٹیمیں تشکیل دی جانی چاہیے تاکہ وہ مستعدی سے اپنے محلے اور بستی کو صاف ستھرا رکھنے کی مہم میں شامل ہوں۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ہمارے عمل سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ہم اللہ کی خوشنوی حاصل کرنے کی غرض سے قربانی کرتے ہیں اور ہمارا مقصد کسی کی بھی دل آزاری کرنا یا اذیت پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔ فرقہ پرست عناصر کی طرف سے کسی اشتعال انگیز حرکت پر مسلمانوں کو صبر و تحمل سے کام لینے سے مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملوں کی شکایت مقامی تھانے میں ضرور درج کرائی جانی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais