
نئی دہلی،25 مئی (ہ س)۔ راہل گاندھی جی نے گزشتہ روز اندرا بھون میں منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانگریس لیڈروں سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ اپنے مسائل کو اٹھائیں اور پارٹی میں مسلمانوں کی شمولیت کو بڑھانے کے لیے زمینی سطح پر مسلسل سے کام کریں۔ان خیالات کا اظہار کانگریس لیڈر ناصر حسین نے کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسلمان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، تو ان کی آواز صرف انہیں اقلیتی کے طور پر نہیں بلکہ مسلمان کے طور پر پہچان کر بلند کی جانی چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اپوزیشن سماجی اور سیاسی نمائندگی کے مسائل کو لے کر مرکزی حکومت پر مسلسل حملہ کر رہی ہے۔میٹنگ میں راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو ”مسلم“ کہنے سے پرہیز نہی کرناچاہئے۔ موجودہ دور میں لوگ صرف ’مسلم‘ کہنے کے بجائے ’اقلیت‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جبکہ کمیونٹی کی حقیقی شناخت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دلتوں، او بی سی، یا عام زمرے کے ارکان پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس مسئلے کو ان کی شناخت کی روشنی میں اٹھایا جانا چاہئے۔ ان کا خیال تھا کہ ہر کمیونٹی کے مسائل کو ان کے متعلقہ ناموں سے براہ راست اجاگر کرنے سے اس کی آواز مضبوط ہوگی۔کانگریس لیڈر ناصر حسین نے کہا کہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے اور ہمارے لیڈر راہل گاندھی جی کی رہنمائی میں کانگریس کا ایک ایک سپاہی ہر نا انصافی کے خلاف کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہے۔اپنے بات کو جاری رکھتے ہوئے ناصر حسین نے کہا کہ کانگریس لیڈران میں اس بیان کو پارٹی کی نئی سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais